آسرا شاعری

دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا

میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے

اسلم انصاری

آسرا دے کے مرے اشک نہ چھین

یہی لے دے کے بچا ہے مجھ میں

نامعلوم

کچھ کہہ دو جھوٹ ہی کہ توقع بندھی رہے

توڑو نہ آسرا دل امیدوار کا

نامعلوم

اک تیرا آسرا ہے فقط اے خیال دوست

سب بجھ گئے چراغ شب انتظار میں

فگار اناوی

بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے

یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

غالب ایاز

خوش گماں ہر آسرا بے آسرا ثابت ہوا

زندگی تجھ سے تعلق کھوکھلا ثابت ہوا

ظفر مرادآبادی

متعلقہ موضوعات