شجر پر اشعار

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے

چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

پروین شاکر

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ

اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

عدیم ہاشمی

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

افتخار عارف

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

ظفر زیدی

ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد

ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

مظفر وارثی

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

طارق نعیم

میں اک شجر کی طرح رہگزر میں ٹھہرا ہوں

تھکن اتار کے تو کس طرف روانہ ہوا

نصیر ترابی

یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہے

سائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہے

شہریار

چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی

ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا

عمر انصاری

اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں

انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

عنبرین حسیب عنبر

آ مجھے چھو کے ہرا رنگ بچھا دے مجھ پر

میں بھی اک شاخ سی رکھتا ہوں شجر کرنے کو

فرحت احساس

پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر

شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

افضل خان

اس شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں

جس کی شاخوں پر کوئی پتا نہیں

علی احمد جلیلی

بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے

یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

غالب ایاز

سفر ہو شاہ کا یا قافلہ فقیروں کا

شجر مزاج سمجھتے ہیں راہگیروں کا

اتل اجنبی

مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے

بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

فاطمہ حسن

لگایا محبت کا جب یاں شجر

شجر لگ گیا اور ثمر جل گیا

میر حسن

برسوں سے اس میں پھل نہیں آئے تو کیا ہوا

سایہ تو اب بھی صحن کے کہنہ شجر میں ہے

اختر بستوی

جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں

میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا

اکبر حمیدی