بدگمانی پر اشعار
محبوب کی ایک صفت بد
گماں ہو جانا بھی ہے ۔ وہ عاشق کو آزار پہنچانے کا کوئی طریقہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور ایسی باتوں پر بدگماں ہوجاتا ہے جو بظاہر بدگماں ہونے کی بھی نہیں ہوتیں اور تعلق ختم کرلیتا ہے ۔ اس قسم کے تجربے ہمارے آپ کے روزمرہ کے تجربے ہیں لیکن ہم اور آپ صرف اپنے اپنے تجربوں کو جیتے ہیں ۔ بدگمانی ،اس کی مختلف صورتوں اور کیفیتوں کو موضوع بنانے والی شاعری کا یہ انتخاب پڑھئے اور تجربوں کی کثرت کا لطف اٹھائیے ۔
عرض احوال کو گلا سمجھے
کیا کہا میں نے آپ کیا سمجھے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کی بات شکایت نہیں، صرف دل کی کیفیت کا بیان ہے مگر مخاطَب اسے گِلہ بنا کر سن لیتا ہے۔ اس شعر میں مقصد اور فہم کے بیچ کی دوری دکھائی گئی ہے کہ سچی بات بھی الٹا مطلب لے لی جاتی ہے۔ مرکزی جذبہ غلط فہمی کا رنج اور بےبسی ہے کہ بات پہنچتی ہی نہیں۔
اک غلط فہمی نے دل کا آئنہ دھندلا دیا
اک غلط فہمی سے برسوں کی شناسائی گئی
بد گمانی کو بڑھا کر تم نے یہ کیا کر دیا
خود بھی تنہا ہو گئے مجھ کو بھی تنہا کر دیا
ساز الفت چھڑ رہا ہے آنسوؤں کے ساز پر
مسکرائے ہم تو ان کو بد گمانی ہو گئی