Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

احوال پر اشعار

ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ

آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو

عرفان صدیقی

ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے

کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

ادا جعفری

عرض احوال کو گلا سمجھے

کیا کہا میں نے آپ کیا سمجھے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کی بات شکایت نہیں، صرف دل کی کیفیت کا بیان ہے مگر مخاطَب اسے گِلہ بنا کر سن لیتا ہے۔ اس شعر میں مقصد اور فہم کے بیچ کی دوری دکھائی گئی ہے کہ سچی بات بھی الٹا مطلب لے لی جاتی ہے۔ مرکزی جذبہ غلط فہمی کا رنج اور بےبسی ہے کہ بات پہنچتی ہی نہیں۔

داغؔ دہلوی

حال ہمارا پوچھنے والے

کیا بتلائیں سب اچھا ہے

آفتاب حسین

نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں دکھ کی دوہری بے بسی بیان ہوئی ہے: نہ دل میں اتنی قوت ہے کہ حالِ دل زبان پر آ سکے، اور نہ محبوب/مقصود کو اتنی فرصت کہ وہ سن سکے۔ “کہنے کی طاقت” اور “سننے کی فرصت” دراصل جذبے اور توجہ کی کمی کی علامتیں ہیں۔ نتیجہ یہ کہ درد ان کہہ رہ جاتا ہے اور تنہائی گہری ہو جاتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر

غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو

وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے دکھ اور کیفیتِ دل کا پیغام محبوب تک پہنچانے پر آمادہ ہے، مگر اسے معلوم ہے کہ محبوب کی انا اور بے نیازی اتنی سخت ہے کہ سن کر بھی بلانے پر راضی نہیں ہوگا۔ یہاں امید اور نااُمیدی ساتھ چلتی ہیں: بات پہنچانے کی خواہش بھی ہے اور اثر نہ ہونے کا یقین بھی۔ یہ دوری اور بے بسی کا نرم مگر تلخ اعتراف ہے۔

مرزا غالب

احوال کیا بیاں میں کروں ہائے اے طبیب

ہے درد اس جگہ کہ جہاں کا نہیں علاج

جرأت قلندر بخش

احوال دیکھ کر مری چشم پر آب کا

دریا سے آج ٹوٹ گیا دل حباب کا

جوشش عظیم آبادی

ہمارے ظاہری احوال پر نہ جا ہم لوگ

قیام اپنے خد و خال میں نہیں کرتے

اظہر فراغ

ہوش اڑ جائیں گے اے زلف پریشاں تیرے

گر میں احوال لکھا اپنی پریشانی کا

مصحفی غلام ہمدانی

نہ پڑھا یار نے احوال شکستہ میرا

خط کے پرزے کئے بازوئے کبوتر توڑا

وزیر علی صبا لکھنؤی

تو نے کیا دیکھا نہیں گل کا پریشاں احوال

غنچہ کیوں اینٹھا ہوا رہتا ہے زردار کی طرح

عشق اورنگ آبادی

یہاں پہ کچھ بھی نہیں ہے باقی تو عکس اپنا تلاش مت کر

مری نگاہوں کے آئنے اب غبار فرقت سے اٹ گئے ہیں

شکیل جاذب
بولیے