Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے نیازی پر اشعار

بے نیازی زندگی کی ایک

اہم ترین قدر ہے کہ آدمی اپنی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اپنی ذات تک ہی محدود ہوجائے حالانکہ اس کی بھی کچھ حدیں اور کچھ خاص صورتیں ہیں ۔ شاعری میں بے نیازی کے مضمون کا بنیادی حوالہ معشوق ہے کہ وہ عاشق سے اپنی بے نیازی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی طرف سے اپنی ساری توجہ پھیر لیتا ہے ۔ شاعروں نے بے نیازی کے اس مضمون کو اور زیادہ وسیع کرتے ہوئے خدا سے جوڑ کر بھی دیکھا ہے اور گہرے طنز کئے ہیں ۔

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک

مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا

اے بندہ پرور (محبوب)، آپ کی لاپرواہی حد سے بڑھ گئی ہے، آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟

جب میں اپنے دل کا حال بیان کروں گا تو کیا آپ پھر انجان بن کر پوچھیں گے کہ 'کیا کہا'؟

شاعر محبوب کی بے رخی اور تغافل سے تنگ آ کر شکایت کر رہا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں محبوب کو 'بندہ پرور' کہتا ہے اور شکوہ کرتا ہے کہ جب بھی وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، محبوب اس طرح 'کیا' کہہ کر ٹال دیتا ہے جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو یا اسے عاشق کے درد کی کوئی پرواہ نہ ہو۔

مرزا غالب

مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے نیازانہ

کہ جیسے پوچھتی ہو کون ہو تم جستجو کیا ہے

اختر سعید خان

عاشقوں کی خستگی بد حالی کی پروا نہیں

اے سراپا ناز تو نے بے نیازی خوب کی

تمہیں عاشقوں کی کمزوری اور ان کی خراب حالت کی کوئی فکر نہیں۔

اے سراپا ناز، تم نے بے نیازی بہت خوب نبھائی ہے۔

شاعر محبوب کی سرد مہری پر شکوہ کرتا ہے کہ عاشق ٹوٹتے رہیں، بگڑتی حالت میں بھی وہ پروا نہیں کرتی۔ “سراپا ناز” سے محبوب کا غرور اور نخرہ نمایاں ہوتا ہے، اور “بے نیازی” کو وہ ایک ہنر کی طرح بیان کرتا ہے۔ جذبے کی تہہ میں عاشق کی بے بسی اور محبوب کی دل آزار لاپروائی ہے۔

میر تقی میر

کیا آج کل سے اس کی یہ بے توجہی ہے

منہ ان نے اس طرف سے پھیرا ہے میرؔ کب کا

کیا اس کی بے توجہی بس آج کل ہی سے شروع ہوئی ہے؟

نہیں میرؔ، اس نے تو کب کا اس طرف سے منہ موڑ لیا ہے۔

شاعر پہلے گمان کرتا ہے کہ محبوب کی سردمہری نئی ہے، پھر خود ہی اس خوش فہمی کو توڑ دیتا ہے کہ یہ تو پرانی بات ہے۔ “منہ پھیرنا” صاف انکار اور دل سے دوری کی علامت ہے۔ اس شعر میں دیر سے سمجھ آنے والا دکھ اور اپنی ہی امیدوں کی فریب کاری نمایاں ہے۔

میر تقی میر

ساری دنیا سے بے نیازی ہے

واہ اے مست ناز کیا کہنا

اثر صہبائی

آپ جام تشنگی بھر دیجیے اغیار کا

اور یوں کیجے ہمیں اوروں سے کم دے دیجیے

ممتاز اقبال
بولیے