aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
ایک بار ایک آدمی نے ملاجی سے پوچھا۔ ’’آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’چالیس سال‘‘ بات آئی گئی ہوئی۔ کوئی دس سال گزر گئے۔ پھر کسی نے ان سے پوچھا۔ ’’آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘ ملاجی نے پھر وہی جواب دیا، ’’چالیس سال‘‘ اس وقت ان کے پاس کچھ وہ لوگ بھی کھڑے
ایک شہری آدمی اور ایک کسان ایک ساتھ سفر کر رہے تھے۔ شہری آدمی نے کسان سے کہا ’’آؤ ہم ایک دوسرے سے پہیلیاں بوجھواتے ہیں جو پہیلی نہ بوجھے اسے پانچ سو روپئے دینے پڑیں گے‘‘۔ کسان بولا: ’’نہیں جناب! آپ پڑھے لکھے ہیں، آپ پانچ سو روپے، دیجئےگا، میں
ملاجی کے ایک پڑوسی نے تھوڑی دیر کے لیے ان کا گدھا مانگا۔ ملاجی اپنا گدھا دینا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے بہانہ کیا، ’’گدھا یہاں نہیں ہے۔‘‘ اسی وقت مکان کے پیچھے سے گدھے کے رینگنے کی آواز سنائی دی۔ پڑوسی نے شکایت کی، ’’ملاجی، آپ نے تو کہا تھا کہ گدھا
ایک دن ملا نصرالدین بکری کا گوشت لے کر آئے اور بیوی کو جلدی سے پکانے کی ہدایت کر کے واپس چلے گئے۔ بیوی نے گوشت پکایا۔ اتنے میں ان کی دو سہیلیاں آ گئیں۔ بیوی نے انہیں کھانا کھلایا اور خود بھی کھایا۔ سارا گوشت ختم ہو گیا۔ ملا جی واپس آئے تو ان کے سامنے
ایک مرتبہ ملاجی گدھے پر ترکاری لاد کر بیچنے کے لیے نکلے۔ جب وہ آواز لگاتے تو گدھا بھی ساتھ ساتھ رینگتا اور ان کی آواز سنائی نہ دیتی۔ وہ ایک سڑک پر پہنچے جہاں بہت بڑا مجمع تھا۔ انہوں نے بہت زور سے صدا لگائی اور گدھا بھی ان کے ساتھ ساتھ اتنے زور سے رینگا
ایک آدمی مینڈک پر تجربہ کر رہا تھا۔ اس نے مینڈک کو میز پر رکھا اور اس کے قریب جاکر تالی بجائی۔ مینڈک زور سے اچھلا۔ اس نے مینڈک کی ایک ٹانگ کاٹ دی۔ پھر اس کے قریب جاکر تالی بجائی۔ مینڈک ذرا سا اچھلا اور گر پڑا۔ اب اس نے مینڈک کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی
ایک صاحب اپنے ایک دوست سے پوچھنے لگے ’’آپ کے بڑے لڑکے کا نام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’نفیس کریم، چھوٹے لڑکے کا نام رئیس کریم۔‘‘ پہلے صاحب نے بیچ میں ٹوک کر کہا ’’تو پھر آپ کی بیٹی کا نام یقیناً آئس کریم ہوگا۔‘‘
ایک لڑکا پارک میں سائیکل چلا رہا تھا۔ اس کی ماں بڑے فخر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ پہلے چکر میں جب لڑکاں ماں کے قریب سے گزرا تو کہا ’’دیکھئے امی ہاتھوں کے بغیر‘‘ دوسرے چکر میں آواز لگائی ’’دیکھئے امی پیروں کے بغیر۔‘‘ تیسرے چکر میں وہ بڑی دیر بعد آیا تو رونی
’’تم اٹھارہویں صدی کے سائنسدانوں کے متعلق کیا جانتے ہو؟‘‘ استاد نے بچوں سے پوچھا۔ ’’جناب سب مر گئے۔‘‘ ایک بچے نے جواب دیا۔
استاد: ’ناک میں دم کرنا‘ کو جملے میں استعمال کریں۔ شاگرد: عتیق کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی، مولوی صاحب نے دعا پڑھ کر نام میں دم کر دیا۔
باجی: (پڑھاتے ہوئے) اچھا خالد بتاؤ دو اور تین کتنے ہوتے ہیں۔ خالد: پانچ باجی: شاباش! لو یہ پانچ چاکلیٹ خالد: (پچھتاتے ہوئے) اگر مجھے یہ معلوم ہوتا تو بیس بتاتا بیس۔
لڑکا : (حساب کے ٹیچر سے) جناب ! ہندی کے ماسٹر صاحب ہندی میں، اردو کے ماسٹر صاحب اردو میں، اور انگریزی کے ماسٹر صاحب انگریزی میں پڑھاتے ہیں۔ پھر آپ بالکل حساب ہی کی زبان میں کیوں نہیں پڑھاتے ہیں؟ ماسٹر صاحب: زیادہ تین پانچ مت کرو، نو دو گیارہ ہو جاؤ۔
کنجوس: اپنے مہمان سے۔ کیوں بھائی دودھ پیوگے یا شربت۔ مہمان: دودھ لے آؤ کنجوس: کپ میں یا گلاس میں۔ مہمان: گلاس میں لے آؤ کنجوس: گلاس شیشے کا ہو یا سٹین لین سٹیل کا۔ مہمان: شیشے کا۔ کنجوس: گلاس سادہ ہو یا پھولدار۔ مہمان: پھولدار کنجوس:
ایک آدمی اپنے گھر کے سامنے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ آخر دو تین معززین نے اسے روک کر پوچھا۔ ’’تم کس مصیبت میں مبتلا ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’تم جاہل کیا جانو۔ میں اس فلسفے پر عمل کر رہا ہوں کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔‘‘
استاد (شاگرد سے) ’’پانی پانی ہونا‘‘ کا جملہ بناؤ۔ شاگرد (معصومیت سے) میں نے برف کا ٹکڑا دھوپ میں رکھا تو وہ پانی پانی ہو گیا۔
خاتون (پھل فروش سے): ’’تم نے میرے بیٹے سے دو کلو آموں کے پیسے وصول کئے ہیں۔ لیکن جب میں نے آموں کا وزن کیا تو وہ صرف ایک کلو نکلے‘‘ پھل فروش: ’’محترمہ! ذرا اپنے بیٹے کو بھی تول کر دیکھ لیں‘‘۔
کلاس میں دو لڑکے شور مچا رہے تھے کہ ٹیچر آ گئے۔ سزا کے طور پر ٹیچر نے دونوں کو دو سو بار اپنا نام لکھنے کو کہا۔ ایک لڑکا لکھنے لگا جبکہ دوسرا رونے لگا۔ ٹیچر نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی۔ جواب ملا۔ ’’سر! اس کا نام صرف ناصر ہے۔ جبکہ میرا نام محمد
ایک آدمی ڈاکٹر کے پاس گیا اور بولا ’’ڈاکٹر صاحب میں سوتا ہوں تو خواب میں بندروں کو فٹ بال کھیلتا ہوا دیکھتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر: یہ دوا آج سونے سے پہلے کھا لینا۔ آدمی: نہیں ڈاکٹر صاحب آج نہیں۔ ڈاکٹر: کیوں؟ آدمی: دراصل آج ان کا فائنل میچ ہے۔
ٹیچر نے بچوں کو سگریٹ کے نقصانات بتانے کے لیے ایک کیڑا لیا اور سگریٹ کے دھوئیں میں رکھا تو وہ مر گیا۔ ٹیچر (بچوں سے): آپ نے اس سے کیا سیکھا؟ پپو: یہی سیکھا کہ سگریٹ پینے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں
دو چور کسی مکان میں جا گھسے۔ ان میں سے ایک ذرا عقل مند تھا۔ اندھیرے میں اس کی کسی چیز سے ٹکر ہوگئی۔ مالک مکان جاگ اٹھا اور پوچھا کون۔ عقل مند چور نے بلی کی آواز بنا کر کہا ’’میاؤں‘‘ مالک سمجھا سچ مچ بلی ہوگی۔ اتفاق سے دوسرے صاحب بھی کسی چیز سے ٹکرا
فٹ بال کے دو کھلاڑی باتیں کر رہے تھے ایک بولا۔ ’’میں نے ایک دن فٹ بال اتنی اونچی پھینکی کہ پورے دو گھنٹے بعد واپس آئی۔‘‘ دوسرا بولا: یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میں نے ایک دن فٹ بال اتنی اونچی پھینکی کہ وہ دو دن بعد واپس آئی اور اس کے ساتھ ایک پرچی
جغرافیہ ماسٹر: رام ناتھ زمین گول ہے اس کی تین دلیلیں دو۔ رام ناتھ: (کھڑے ہوکر) کتاب میں لکھا ہے۔ آپ بھی کہتے ہیں کہ ’’زمین گول ہے‘‘ اور میں بھی آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔ (گویا ان تینوں کے ماننے کو اس نے تین دلیلیں قرار دیں)
بیٹا (ماں سے) : امی ایک شخص کو جن کا پرس ملا ہے۔ ماں : تمہیں کیسے پتہ چلا وہ جن کا پرس ہے۔ بیٹا : وہ آدمی کہہ رہا تھا جن کا پرس ہے، آکر لے جائیں۔
باپ سو رہا تھا اور اس کے خراٹے گونچ رہے تھے۔ ننھا بچہ قریب ہی کھللونوں سے کھیل رہا تھا۔ اچانک باپ نے کروٹ لی اور خراٹے بند ہو گئے بچے نے باپ کی طرف دیکھا اور چلایا: ’’امی ۔ امی جلدی آؤ۔ ابو کا انجن خراب ہو گیا ہے‘‘۔
بیٹا: (باپ سے) ابا جان آج میں اسکول نہیں جاؤں گا۔ آپ مجھے چھٹی کی درخواست لکھ دیں۔ باپ: وہ کیوں؟ بیٹا: رات کی بارش سے سڑکوں پر بہت کیچڑ ہے۔ باپ: لیکن درخواست دینے کون جائےگا۔ بیٹا: وہ تو میں خشک خشک راستہ دیکھ کر اسکول دے آؤں گا۔
بچہ: ابا جان، میں حمید کے ساتھ کھیلنے جاؤں؟ ابا: نہیں، وہ بہت شرارتی ہے۔ بچہ: پھر میں اس سے لڑنے جا رہا ہوں!
راہگیر: (رکشے والے سے) ریلوے اسٹیشن چلوگے؟ رکشے والا ! ضرور 50 روپئے لوں گا۔ راہگیر: 20 روپئے لے لو۔ رکشے والا: 20 روپئے میں بھلا کون جاتا ہے؟ راہگیر: آپ پیچھے بیٹھیں میں لے جاتا ہوں۔
استاد: کیوں کہا جاتا ہے کہ شیشے کے مکان میں بیٹھ کر پتھر نہیں مارنے چاہئے۔ شاگرد: اس طرح سب کو پتہ لگ جاتا ہے کہ پتھر کون مار رہا ہے۔
ایک چور مکان میں داخل ہوا۔ تجوری پر لکھا تھا ’’بٹن دبائیے‘‘ چور نے بٹن دبایا تو سائرن بج اٹھا اور چور پکڑا گیا۔ وہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے چور سے کہا: ’’تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا پسند کروگے۔‘‘ چور نے اداس لہجے میں کہا: ’’میں اس سے زیادہ اور
ایک گھوڑا جب چلتے چلتے رک جاتا تو کوچوان اتر کر اس کے سامنے گانا گاتا۔ گانا سن کر گھوڑا پھر چلنے لگتا۔ آخر تنگ آکر تانگے میں بیٹھی ہوئی سواری نے کوچوان سے پوچھا۔ ’’بھئی یہ کیا قصہ ہے۔ تمہارا گھوڑا گانا سن کر کیوں چلتا ہے؟‘‘ کوچوان بولا۔ ’’بابوجی!
فیصل اپنے دوست افضل سے کہنے لگا۔ ’’ارے دوست! تمہارے سر کے بال تو سفید ہیں اور مگر مونچھیں کیوں کالی ہیں؟‘‘ ’’جناب! مونچھیں تو سر کے بالوں سے بیس سال بعد پیدا ہوئی تھیں۔‘‘ افضل نے جواب دیا۔
استاد (شاگرد سے) بت پرست کسے کہتے ہیں؟ شاگرد: بتوں کی پوجا کرنے والے کو۔ استاد: شاباش! اچھا یہ بتاؤ سرپرست کسے کہتے ہیں؟ شاگرد: سر کی پوجا کرنے والے کو۔
ایک سیاح کسی گاؤں میں گیا وہاں ایک دیہاتی سے پوچھا۔ یہاں کسی نے اپنا نام روشن کیا ہے۔ نہیں جناب یہاں تو ابھی تک بجلی نہیں آئی۔
جب علامہ اقبالؔ کی عمر گیارہ برس کی تھی اور وہ اسکول میں پڑھتے تھے تو ایک دن ان کو اسکول پہچنے میں دیر ہو گئی۔ ماسٹر صاحب نے پوچھا۔ ’’اقبال دیر سے کیوں آئے؟‘‘ علامہ اقبالؔ نے بےساختہ جواب دیا۔ ’’اقبال دیر ہی میں آتا ہے‘‘۔
استاد نے اپنی کلاس کے تمام طالب علموں سے ’ہمارا کتا‘ موضوع پر ایک مقالہ لکھنے کو کہا۔ بعد میں جب استاد کا بیاں جانچنے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ احسن اور امجد دونوں بھائیوں کا مضمون حرف بہ حرف ایک جیسا ہے۔ استاد نے دونوں کو بلا کر کہا ’’تم دونوں
ماسٹر: دنیا میں سب سے زیادہ جلد بڑھنے والی کیا چیز ہے۔ ایک لڑکا: مچھلی۔ ماسٹر: ٹھیک ہے لڑکا: آپا نے ایک دفعہ ایک مچھلی پکڑی تھی اور ہر مرتبہ جب وہ اس کا ذکر کرتے تھے تو وہ چھ انچ بڑھ جاتی تھی۔ یعنی ایک دفعہ اگر پکڑی ہوئی مچھلی کو چھ انچ کہتے
استاد (نادر سے) پانچ پھلوں کے نام بتاؤ‘‘ نادر: ’’دو سیب، دو مالٹے اور ایک امرود‘‘
سائنس کے استاد نے طلبہ کو دودھ کے عنوان پر مضمون لکھنے کو کہا۔ مضمون کے بارے میں استاد نے ہدایت دی کہ اسے کم ازکم چار صفحات پر مشتمل ہونا چاہئے۔ ایک شاگرد نے تھوڑی دیر بعد ہی ایک صفحہ لکھ کر استاد کو دکھایا تو استاد نے ناراضگی سے کہا۔ ’’نالائق میں
ارشد: میں بچپن میں بہت طاقتور ہوتا تھا۔ عامر: وہ کیسے؟ ارشد: میری امی کہتی ہیں کہ بچپن میں، میں جب روتا تھا تو سارا گھر سر پر اٹھا لیتا تھا۔
ایک چور کسی کے گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا اور مالک مکان کے تکیئے کے نیچے سے چابیاں تلاش کرنے لگا۔ مالک کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ مالک نے پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘ چور نے منہ سے بلی کی آواز نکالی ’’میاؤں‘‘۔ مالک نے پھر پوچھا: ’’کون
گاہک: اس بھینس کی قیمت دس ہزار بہت زیادہ ہے اس کی تو ایک آنکھ بھی نہیں ہے۔ مالک: آپ کو اس کا دودھ دوہنا ہے یا اس سے کشیدہ کاری کرانی ہے۔
گوشت کہاں گیااستاد (شاگرد سے) ’’بتاؤ! اورنگ زیب عالمگیر کی حکومت کہاں تک تھی؟‘‘ شاگرد: ’’جناب! صفحہ نمبر 15 سے صفحہ نمبر 18 تک‘‘۔
ایک بچہ ٹارچ سے کتاب پر روشنی ڈال رہا تھا۔ ماں نے دیکھ کر پوچھا۔ ’’یہ تم کتاب پر روشنی کیوں ڈال رہے ہو؟‘‘ بچے نے جواب دیا۔ ’’امی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ اس مضمون پر روشنی ڈالئے۔‘‘
بیٹا اسکول سے واپس آکر ماں سے بولا: ’’امی! امی! دیکھئے تو میرے سر پر کیا ہیں؟‘‘ ماں نے غور سے دیکھ کر کہا: ’’بیٹے تمہارے سر پر تو صرف بال ہیں۔‘‘ ’’کیا صرف بال؟‘‘ بیٹے نے حیرت سے پوچھا ماں نے کہا: ’’ہاں بھئی صرف اور صرف بال ہیں، اس کے سوا کچھ
جج (ملزم سے) ’’تم نے اس آدمی کے منہ پر گھونسا کیوں مارا؟‘‘ ملزم: ’’جناب اس نے آج سے دو سال پہلے مجھے گینڈا کہا تھا۔‘‘ جج: اگر دو سال پہلے کہا تھا تو اب مارنے کا کیا جواز تھا؟‘‘ ملزم: ’’جناب میں نے آج ہی گینڈا دیکھا ہے۔‘‘
ایک صاحب اشرف نامی نے اشرف نگر سے اپنی بیوی شریفن کو اشرفی بھیجی۔ نوکر: سریفن بیوی کو اسرف بابو نے اسرفی بھیجی ہے۔ بیوی: ارے موئے کہیں تو شین بولا ہوتا۔ نوکر: شب کو شلام کہا ہے۔
استاد نے شاگرد سے پوچھا: ’’تم آج دیر سے اسکول کیوں آئے ہو؟‘‘ ’’سر میں گر گیا تھا لگ گئی۔‘‘ شاگرد نے بتایا۔ ’’کیا مطلب کہاں گر گئے تھے کیا لگ گئی۔‘‘ استاد نے پھر پوچھا۔ ’’سر میں بستر پر گر گیا تھا اور آنکھ لگ گئی تھی‘‘ شاگرد نے کہا۔
ایک بوڑھی عورت راستے سے جارہی تھی راستے میں وہ ایک سائیکل سے ٹکرا گئی۔ سائیکل سوار کے داڑھی بھی تھی۔ بوڑھی نے کہا کہ ’’اتنی بڑی داڑھی رکھ کر ٹکر دیتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی‘‘ اس آدمی نے کہا ’’یہ داڑھی ہے، بریک تھوڑی ہی ہے‘‘
حساب کے ماسٹر صاحب نے پوچھا ’’ایک درخت پر پانچ چڑیاں بیٹھی تھیں۔ کسی نے بندوق ماری۔‘‘ دو چڑیاں گر پڑیں ’’بتاؤ درخت پر کتنی چڑیاں رہ گئیں؟‘‘ لڑکے نے جواب دیا۔ ’’ایک بھی نہیں‘‘ ماسٹر صاحب نے کہا: ’’وہ کیسے؟‘‘ لڑکا بولا:۔ ’’بندوق کی
استاد: ’’وہ کون سی چیز ہے۔ جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہے اور اگر ہم کمرے کے کواڑ بند کر دیں تو بھی اندر آ جائےگی۔‘‘ لڑکا: جلے ہوئے سالن کی بو۔
You have exhausted 5 free content pages per year. Register and enjoy UNLIMITED access to the whole universe of Urdu Poetry, Rare Books, Language Learning, Sufi Mysticism, and more.
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books