کس کو دیکھوں میں کس سے بات کروں
کتنے چہرے ہیں ایک چہرے پہ
وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا
جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا
کہاں تک خود کو میں تقسیم کر لوں
کہ سارا شہر مجھ میں آ بسے ہے
مرا شجرہ مرا نام و نسب پوچھا تھا لوگوں نے
میں اپنے گھر گیا ٹوٹی ہوئی تلوار لے آیا
اک ادنیٰ سا شاعر ہوں میں لاکھوں میں
اپنی اک پہچان بناتا رہتا ہوں