Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رہبر پر اشعار

سفر میں رہبر کا کردار

ہمیشہ مشکوک رہا ہے ۔ قافلے کے لٹنے کے پیچھے رہبر کی دغابازیاں تصور کی گئی ہیں ۔ شاعروں نے اس مضمون کو ایک وسیع تر استعاراتی سطح پر برتا ہے اور نئے نئے پہلو تلاش کئے ہیں ۔ یہ شاعری نئی حیرتوں کے ساتھ نئے حوصلے پیدا کرتی ہے ۔ ایک انتخاب حاضر ہے ۔

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

Interpretation: Rekhta AI

اقبال کے نزدیک رہنما وہ ہے جس کے پاس بلند مقصد، نرم و مؤثر گفتگو اور اندرونی سوز ہو۔ ان صفات کو “رختِ سفر” کہہ کر بتایا گیا ہے کہ قیادت محض اختیار نہیں، مسلسل جدوجہد اور ذمہ داری کا سفر ہے۔ قافلے کی تمثیل اجتماعی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ایک فرد کے اخلاقی اوصاف سب کی سمت طے کرتے ہیں۔ اس شعر کی روح خودی، خلوص اور عمل کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

مجھے اے رہنما اب چھوڑ تنہا

میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں

حیرت گونڈوی

دل کی راہیں جدا ہیں دنیا سے

کوئی بھی راہبر نہیں ہوتا

فرحت کانپوری
بولیے