ADVERTISEMENT

اشعار پررکشا بندھن

کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا

اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا

منور رانا

بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے

وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے

سید ضمیر جعفری

بہن کا پیار جدائی سے کم نہیں ہوتا

اگر وہ دور بھی جائے تو غم نہیں ہوتا

نامعلوم

یا رب مری دعاؤں میں اتنا اثر رہے

پھولوں بھرا سدا مری بہنا کا گھر رہے

نامعلوم
ADVERTISEMENT

زندگی بھر کی حفاظت کی قسم کھاتے ہوئے

بھائی کے ہاتھ پے اک بہن نے راکھی باندھی

نامعلوم

بہنوں کی محبت کی ہے عظمت کی علامت

راکھی کا ہے تہوار محبت کی علامت

مصطفی اکبر

بندھن سا اک بندھا تھا رگ و پے سے جسم میں

مرنے کے بعد ہاتھ سے موتی بکھر گئے

بشیر الدین احمد دہلوی

گلشن سے کوئی پھول میسر نہ جب ہوا

تتلی نے راکھی باندھ دی کانٹے کی نوک پر

نامعلوم
ADVERTISEMENT

آستھا کا رنگ آ جائے اگر ماحول میں

ایک راکھی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے آج

امام اعظم

راکھیاں لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں

تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی پل

محسن کاکوروی

ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاں

نمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاں

دیپک پروہت