رومانی اشعار

رومان کے بغیر زندگی کتنی خالی خالی سی ہوتی ہے اس کا اندازہ تو آپ سب کو ہوگا ہی ۔ رومان چاہے کائنات کے ہرے بھرے خوبصورت مناظر کا ہو یا انسانوں کے درمیان نازک وپیچیدہ رشتوں کا اسی سے زندگی کی رونق مربوط ہے ۔ ہم سب زندگی کی سفاک صورتوں سے بچ نکلنے کے لئے رومانی لمحوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ تو آئیے ہمارا یہ شعری انتخاب ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں ہر طرف رومان بکھرا پڑا ہے ۔

آج کی شام گزاریں گے ہم چھتری میں

بارش ہوگی خبریں سن کر آیا ہوں

الیاس بابر اعوان

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے

موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

قتیل شفائی

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

وسیم بریلوی

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو

نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

امیر مینائی

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

بشیر بدر

اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی

پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

آسی غازی پوری

اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے

مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے

سالم سلیم

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

عبید اللہ علیم

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

نامعلوم

دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری

دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

احمد فراز

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ

مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

ناصر کاظمی

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

جوشؔ ملیح آبادی

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

دل میں طوفان ہو گیا برپا

تم نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

نامعلوم

دل سے اٹھتا ہے صبح و شام دھواں

کوئی رہتا ہے اس مکاں میں ابھی

انجم رومانی

دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا

دیکھ اب برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے

انور مسعود

ایک چہرہ ہے جو آنکھوں میں بسا رہتا ہے

اک تصور ہے جو تنہا نہیں ہونے دیتا

جاوید نسیمی

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

عدیم ہاشمی

ایک مصرع ہے زندگی میری

آپ چاہیں تو شعر ہو جائے

نامعلوم

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے

ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

قتیل شفائی

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

امیر مینائی

ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے

اب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے

اقبال عظیم

ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب

آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا

showers of wine, I did think, would come with rainy clime

but alas when it did rain my heart broke one more time

showers of wine, I did think, would come with rainy clime

but alas when it did rain my heart broke one more time

سدرشن فاخر

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

فرحت احساس

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو

افتخار نسیم

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

بشیر بدر

جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا

شہریار

جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے

شکیب جلالی

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

ولی محمد ولی

خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ

اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں

اطہر نفیس

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

افتخار مغل

کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں

اے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے

ساحر لکھنوی

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

جاں نثاراختر

مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے

خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے

بشیر بدر

میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا

تمہاری محبت اگر ساتھ ہوگی

بشیر بدر

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بشیر بدر

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

I am someone else's thought, someone else brings me to mind

my image in the mirror wrought, someone else is there behind

I am someone else's thought, someone else brings me to mind

my image in the mirror wrought, someone else is there behind

سلیم کوثر

مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں

یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں

جاوید صبا

مجھے تو قید محبت عزیز تھی لیکن

کسی نے مجھ کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا

شکیل بدایونی

مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا

تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

عباس تابش

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

بشیر بدر

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

کتنا آسان تھا علاج مرا

فہمی بدایونی

پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے

نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے

ہستی مل ہستی

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو

ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

اعجاز توکل

رات تیری یادوں نے دل کو اس طرح چھیڑا

جیسے کوئی چٹکی لے نرم نرم گالوں میں

بشیر بدر

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو

شہریار

شام ڈھلے یہ سوچ کے بیٹھے ہم اپنی تصویر کے پاس

ساری غزلیں بیٹھی ہوں گی اپنے اپنے میر کے پاس

ساغرؔ اعظمی

شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں

دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیے

نامعلوم

Added to your favorites

Removed from your favorites