وقت پر شاعری

’’وقت وقت کی بات ہوتی ہے‘‘ یہ محاورہ ہم سب نے سنا ہوگا۔ جی ہاں وقت کا سفاک بہاؤ ہی زندگی کو نت نئی صورتوں سے دوچار کرتا ہے۔ کبھی صورت خوشگوار ہوتی ہے اور کبھی تکلیف دہ۔ ہم سب وقت کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تو آئیے وقت کو ذرا کچھ اور گہرائی میں اتر کر دیکھیں اور سمجھیں۔ شاعری کا یہ انتخاب وقت کی ایک گہری تخلیقی تفہیم کا درجہ رکھتا ہے۔

بابو گیری کرتے ہو گئے عالؔی کو دو سال

مرجھایا وہ پھول سا چہرہ بھورے پڑ گئے بال

جمیل الدین عالی

دیا بجھا پھر جل جائے اور رت بھی پلٹا کھائے

پھر جو ہاتھ سے جائے سمے وہ کبھی نہ لوٹ کے آئے

جمال پانی پتی

موتی مونگے کنکر پتھر بچے نہ کوئی بھائی

سمے کی چکی سب کو پیسے کیا پربت کیا رائی

جمال پانی پتی

متعلقہ موضوعات

Added to your favorites

Removed from your favorites