عبد العزیز خالد
غزل 18
نظم 1
اشعار 19
کس کو نہیں کوتاہیٔ قسمت کی شکایت
کس کو گلہ گردش ایام نہیں ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں فقط ایک خواب تھا تیرا
خواب کو کون یاد رکھتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن
صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مغرب مجھے کھینچے ہے تو روکے مجھے مشرق
دھوبی کا وہ کتا ہوں کہ جو گھاٹ نہ گھر کا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پرکھنے والے پرکھیں گے اسی معیار پر ہم کو
جہاں سے کیا لیا ہم نے جہاں کو کیا دیا ہم نے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے