منیر نیازی

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا2
0 ا ,اپنی ہی تیغ_ادا سے آپ گھائل ہو گیا0
0 ا ,اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا0
0 ا ,اس کا نقشہ ایک بے_ترتیب افسانے کا تھا0
0 ا ,اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیا0
0 ا ,اک عالم_ہجراں ہی اب ہم کو پسند آیا0
0 ا ,آئنہ اب جدا نہیں کرتا1
0 ا ,بس ایک ماہ_جنوں_خیز کی ضیا کے سوا1
0 ا ,بے_چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا1
0 ا ,بے_خیالی میں یوں_ہی بس اک ارادہ کر لیا3
0 ا ,بے_گانگی کا ابر_گراں_بار کھل گیا0
0 ا ,پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھا3
0 ا ,جو مجھے بھلا دیں_گے میں انہیں بھلا دوں_گا0
0 ا ,چمن میں رنگ_بہار اترا تو میں نے دیکھا0
0 ا ,خمار_شب میں اسے میں سلام کر بیٹھا0
0 ا ,دشت_باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا0
0 ا ,دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ_گر رہا0
0 ا ,دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتا0
0 ا ,رنج_فراق_یار میں رسوا نہیں ہوا0
0 ا ,زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا2
0 ا ,زور پیدا جسم و جاں کی ناتوانی سے ہوا0
0 ا ,شب_ماہتاب نے شہ_نشیں پہ عجیب گل سا کھلا دیا0
0 ا ,شب_وصال میں دوری کا خواب کیوں آیا0
0 ا ,غیروں سے مل کے ہی سہی بے_باک تو ہوا0
0 ا ,میری ساری زندگی کو بے_ثمر اس نے کیا0
0 ا ,نام بے_حد تھے مگر ان کا نشاں کوئی نہ تھا0
0 ا ,ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا0
0 ا ,ہے اس گل_رنگ کا دیوار ہونا0
0 ا ,وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا0
0 ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے0
0 اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہے0
0 بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئی0
0 ت ,امتحاں ہم نے دیئے اس دار_فانی میں بہت1
0 ت ,مکاں میں قید_صدا کی دہشت0
0 ح ,مثال_سنگ کھڑا ہے اسی حسیں کی طرح0
0 دل کو حال قرار میں دیکھا0
0 ر ,دل خوف میں ہے عالم_فانی کو دیکھ کر0
0 ر ,کوئی داغ ہے مرے نام پر0
0 رنگوں کی وحشتوں کا تماشا تھی بام شام0
0 رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھ0
0 شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا0
0 ف ,دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف0
0 ف ,روشنی در روشنی ہے اس طرف0
0 ن ,اک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میں0
0 ن ,ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروں0
0 ن ,تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں1
0 ن ,جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیں0
0 ن ,جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں2
0 ن ,دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیں0
0 ن ,ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں0
0 ن ,ساعت_ہجراں ہے اب کیسے جہانوں میں رہوں0
0 ن ,سائے گھٹتے جاتے ہیں0
0 ن ,سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں1
0 ن ,شہر پربت بحر_و_بر کو چھوڑتا جاتا ہوں میں0
0 ن ,غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں2
0 ن ,یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں1
0 نیل فلک کے اسم میں نقش اسیر کے سبب0
0 ہ ,اگا سبزہ در_و_دیوار پر آہستہ آہستہ1
0 ھ ,تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں اب باہر آ کر دیکھ2
0 و ,اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو2
0 و ,اشک_رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو2
0 و ,ان سے نین ملا کے دیکھو2
0 و ,چاند نکلا ہے سر_قریۂ_ظلمت دیکھو0
0 و ,سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو0
0 و ,ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو0
0 ی ,آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی3
0 ے ,اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہے0
0 ے ,اس شہر_سنگ_دل کو جلا دینا چاہئے0
0 ی ,اور ہیں کتنی منزلیں باقی3
0 ے ,ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنے0
0 ی ,آئی ہے اب یاد کیا رات اک بیتے سال کی0
0 ے ,بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے0
0 ی ,پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھی0
0 ے ,تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھے0
0 ی ,تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملی2
0 ے ,جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کے2
0 ی ,خواب_و_خیال_گل سے کدھر جائے آدمی0
0 ی ,خواب_و_خیال_گل سے کدھر جائے آدمی0
0 ے ,خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے0
0 ے ,خیال_یکتا میں خواب اتنے0
0 ے ,دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے0
0 ی ,رات اتنی جا چکی ہے اور سونا ہے ابھی0
0 ی ,ردا اس چمن کی اڑا لے گئی0
0 ی ,سارے منظر ایک جیسے ساری باتیں ایک سی1
0 ی ,صحن کو چمکا گئی بیلوں کو گیلا کر گئی0
0 ے ,کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے0
0 ی ,کوئی حد نہیں ہے کمال کی1
0 ے ,محفل_آرا تھے مگر پھر کم_نما ہوتے گئے0
0 ے ,نشیب_وہم فراز_گریز_پا کے لیے0
0 ے ,نواح_وسعت_میداں میں حیرانی بہت ہے0
0 ی ,ہے شکل تیری گلاب جیسی0
0 ے ,وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے0
0 ے ,یہ آنکھ کیوں ہے یہ ہاتھ کیا ہے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 93 of 93 items