- کتاب فہرست 184502
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
فرحان حنیف وارثی کے اشعار
فرحان حنیف وارثیجس کی خاطر سبھی رشتوں سے ہوا تھا منکر
اب سنا ہے کہ وہی شخص خفا ہے مجھ سے
فرحان حنیف وارثیوہ ایک موڑ جہاں وہ کبھی ملا تھا مجھے
اس ایک موڑ پر اس کو جدا بھی ہونا تھا
فرحان حنیف وارثیابھی مجھ میں بہت ہمت ہے لیکن
کسی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیاور کیا دیں گے ہم تجھے جاناں
زندگی تیرے نام کرتے ہیں
فرحان حنیف وارثیمجھ سے بچھڑا ہے مگر یہ بھی نہ سوچا تو نے
اس قدر ٹوٹ کے پھر کون تجھے چاہے گا
فرحان حنیف وارثیتمہی نے راہ میں اک گھر بسا لیا ورنہ
محبتوں کا سفر تو طویل تھا جاناں
فرحان حنیف وارثیثبت ہے میرے لبوں پر آج بھی تیرا وہ لمس
آج بھی ہے تیرے خوابوں کا بسیرا آنکھ میں
فرحان حنیف وارثیہماری چاہتیں سچ ہیں مگر حالات کا دریا
مجھے اس پار رکھتا ہے تجھے اس پار رکھتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثییہ رستہ تو سیدھا اس کے گھر تک جا کر رکتا ہے
اے میرے آوارہ قدمو کس رخ پر لے آئے تم
فرحان حنیف وارثیروز مجھ کو وہ یاد آتا ہے
روز میں خود کو بھول جاتا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیپرندے سو گئے جا کے گھروں میں
شجر جنگل میں پھر کیوں جاگتا ہے
فرحان حنیف وارثیوہ میرے نام کرے اپنی خوشبوئیں ارسال
میں اس کے نام کروں اپنی شاعری سوچوں
فرحان حنیف وارثیمطمئن ہے یہ میری قوم بہت
تو بھی کچھ خوش گمانیاں دے جا
فرحان حنیف وارثیورق ورق ہیں یہاں حادثات روز و شب
کتاب زیست میں منسوب اب کروں کس سے
فرحان حنیف وارثیوہ آنکھوں سے اتر آیا ہے دل میں
اسی منظر کے پس منظر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیرات بھر کوئی سورج دہکتا لگے
میری آنکھوں کے یہ نور آنسو عجب
فرحان حنیف وارثییہ اور بات کہ بھولے گا خد و خال مگر
وہ مجھ کو یاد رکھے گا کسی کتھا کی طرح
فرحان حنیف وارثیدلوں کے میل سے آگے لبوں کے سلسلے سارے
جو لب خاموش ہوتے ہیں تو آنکھیں بات کرتی ہیں
فرحان حنیف وارثیاول اول تو اس کو سب دلچسپی سے پڑھتے ہیں
جیسے میرا چہرہ بھی اخبار کا کوئی کالم ہو
فرحان حنیف وارثیمیں بھی سپنے در آنے کے سب رستے مسدود کروں
تم بھی آنکھیں بند نہ کرنا وصل کا موسم آنے تک
فرحان حنیف وارثیہر سوچتا دماغ ہر اک دیکھتی نظر
لمحوں کی بھاگ دوڑ میں شامل ہے ان دنوں
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-