- کتاب فہرست 182641
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3301طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1712 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4331 سیاسی355 مذہبیات4773 تحقیق و تنقید6628افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2041نصابی کتاب450 ترجمہ4261خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1286
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت587
- نظم1213
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
فرحان حنیف وارثی کے اشعار
فرحان حنیف وارثیجس کی خاطر سبھی رشتوں سے ہوا تھا منکر
اب سنا ہے کہ وہی شخص خفا ہے مجھ سے
فرحان حنیف وارثیابھی مجھ میں بہت ہمت ہے لیکن
کسی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیوہ ایک موڑ جہاں وہ کبھی ملا تھا مجھے
اس ایک موڑ پر اس کو جدا بھی ہونا تھا
فرحان حنیف وارثیاور کیا دیں گے ہم تجھے جاناں
زندگی تیرے نام کرتے ہیں
فرحان حنیف وارثیمجھ سے بچھڑا ہے مگر یہ بھی نہ سوچا تو نے
اس قدر ٹوٹ کے پھر کون تجھے چاہے گا
فرحان حنیف وارثیتمہی نے راہ میں اک گھر بسا لیا ورنہ
محبتوں کا سفر تو طویل تھا جاناں
فرحان حنیف وارثیہماری چاہتیں سچ ہیں مگر حالات کا دریا
مجھے اس پار رکھتا ہے تجھے اس پار رکھتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیثبت ہے میرے لبوں پر آج بھی تیرا وہ لمس
آج بھی ہے تیرے خوابوں کا بسیرا آنکھ میں
فرحان حنیف وارثیروز مجھ کو وہ یاد آتا ہے
روز میں خود کو بھول جاتا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثییہ رستہ تو سیدھا اس کے گھر تک جا کر رکتا ہے
اے میرے آوارہ قدمو کس رخ پر لے آئے تم
فرحان حنیف وارثیمطمئن ہے یہ میری قوم بہت
تو بھی کچھ خوش گمانیاں دے جا
فرحان حنیف وارثیپرندے سو گئے جا کے گھروں میں
شجر جنگل میں پھر کیوں جاگتا ہے
فرحان حنیف وارثیوہ میرے نام کرے اپنی خوشبوئیں ارسال
میں اس کے نام کروں اپنی شاعری سوچوں
فرحان حنیف وارثیوہ آنکھوں سے اتر آیا ہے دل میں
اسی منظر کے پس منظر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیدلوں کے میل سے آگے لبوں کے سلسلے سارے
جو لب خاموش ہوتے ہیں تو آنکھیں بات کرتی ہیں
فرحان حنیف وارثیورق ورق ہیں یہاں حادثات روز و شب
کتاب زیست میں منسوب اب کروں کس سے
فرحان حنیف وارثییہ اور بات کہ بھولے گا خد و خال مگر
وہ مجھ کو یاد رکھے گا کسی کتھا کی طرح
فرحان حنیف وارثیہر سوچتا دماغ ہر اک دیکھتی نظر
لمحوں کی بھاگ دوڑ میں شامل ہے ان دنوں
فرحان حنیف وارثیرات بھر کوئی سورج دہکتا لگے
میری آنکھوں کے یہ نور آنسو عجب
فرحان حنیف وارثیاول اول تو اس کو سب دلچسپی سے پڑھتے ہیں
جیسے میرا چہرہ بھی اخبار کا کوئی کالم ہو
فرحان حنیف وارثیمیں بھی سپنے در آنے کے سب رستے مسدود کروں
تم بھی آنکھیں بند نہ کرنا وصل کا موسم آنے تک
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
-
