Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Farhan Hanif Warsi's Photo'

فرحان حنیف وارثی

1966 | ممبئی, انڈیا

فرحان حنیف وارثی کے اشعار

379
Favorite

باعتبار

جس کی خاطر سبھی رشتوں سے ہوا تھا منکر

اب سنا ہے کہ وہی شخص خفا ہے مجھ سے

اس کا انداز روٹھ جانے کا

ہے بہانہ قریب آنے کا

ابھی مجھ میں بہت ہمت ہے لیکن

کسی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں میں

وہ ایک موڑ جہاں وہ کبھی ملا تھا مجھے

اس ایک موڑ پر اس کو جدا بھی ہونا تھا

اور کیا دیں گے ہم تجھے جاناں

زندگی تیرے نام کرتے ہیں

مجھ سے بچھڑا ہے مگر یہ بھی نہ سوچا تو نے

اس قدر ٹوٹ کے پھر کون تجھے چاہے گا

تمہی نے راہ میں اک گھر بسا لیا ورنہ

محبتوں کا سفر تو طویل تھا جاناں

ہماری چاہتیں سچ ہیں مگر حالات کا دریا

مجھے اس پار رکھتا ہے تجھے اس پار رکھتا ہے

ثبت ہے میرے لبوں پر آج بھی تیرا وہ لمس

آج بھی ہے تیرے خوابوں کا بسیرا آنکھ میں

اس سے ملنے کا بہانہ چاہے

دل وہی درد پرانا چاہے

روز مجھ کو وہ یاد آتا ہے

روز میں خود کو بھول جاتا ہوں

یہ رستہ تو سیدھا اس کے گھر تک جا کر رکتا ہے

اے میرے آوارہ قدمو کس رخ پر لے آئے تم

یہ گھٹا جام اور تنہائی

یاد آتا ہے بے وفا کوئی

مطمئن ہے یہ میری قوم بہت

تو بھی کچھ خوش گمانیاں دے جا

پرندے سو گئے جا کے گھروں میں

شجر جنگل میں پھر کیوں جاگتا ہے

وہ میرے نام کرے اپنی خوشبوئیں ارسال

میں اس کے نام کروں اپنی شاعری سوچوں

وہ آنکھوں سے اتر آیا ہے دل میں

اسی منظر کے پس منظر میں ہوں میں

دلوں کے میل سے آگے لبوں کے سلسلے سارے

جو لب خاموش ہوتے ہیں تو آنکھیں بات کرتی ہیں

ورق ورق ہیں یہاں حادثات روز و شب

کتاب زیست میں منسوب اب کروں کس سے

یہ اور بات کہ بھولے گا خد و خال مگر

وہ مجھ کو یاد رکھے گا کسی کتھا کی طرح

ہر سوچتا دماغ ہر اک دیکھتی نظر

لمحوں کی بھاگ دوڑ میں شامل ہے ان دنوں

رات بھر کوئی سورج دہکتا لگے

میری آنکھوں کے یہ نور آنسو عجب

اول اول تو اس کو سب دلچسپی سے پڑھتے ہیں

جیسے میرا چہرہ بھی اخبار کا کوئی کالم ہو

میں بھی سپنے در آنے کے سب رستے مسدود کروں

تم بھی آنکھیں بند نہ کرنا وصل کا موسم آنے تک

Recitation

بولیے