- کتاب فہرست 186143
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال2015
طرز زندگی22 طب931 تحریکات297 ناول4855 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی13
- اشاریہ5
- اشعار68
- دیوان1465
- دوہا50
- رزمیہ106
- شرح201
- گیت62
- غزل1193
- ہائیکو12
- حمد47
- مزاحیہ37
- انتخاب1603
- کہہ مکرنی6
- کلیات692
- ماہیہ19
- مجموعہ5064
- مرثیہ384
- مثنوی848
- مسدس58
- نعت568
- نظم1253
- دیگر76
- پہیلی16
- قصیدہ190
- قوالی17
- قطعہ65
- رباعی300
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت26
فرحان حنیف وارثی کے اشعار
فرحان حنیف وارثیجس کی خاطر سبھی رشتوں سے ہوا تھا منکر
اب سنا ہے کہ وہی شخص خفا ہے مجھ سے
فرحان حنیف وارثیوہ ایک موڑ جہاں وہ کبھی ملا تھا مجھے
اس ایک موڑ پر اس کو جدا بھی ہونا تھا
فرحان حنیف وارثیابھی مجھ میں بہت ہمت ہے لیکن
کسی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیاور کیا دیں گے ہم تجھے جاناں
زندگی تیرے نام کرتے ہیں
فرحان حنیف وارثیمجھ سے بچھڑا ہے مگر یہ بھی نہ سوچا تو نے
اس قدر ٹوٹ کے پھر کون تجھے چاہے گا
فرحان حنیف وارثیتمہی نے راہ میں اک گھر بسا لیا ورنہ
محبتوں کا سفر تو طویل تھا جاناں
فرحان حنیف وارثیہماری چاہتیں سچ ہیں مگر حالات کا دریا
مجھے اس پار رکھتا ہے تجھے اس پار رکھتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیثبت ہے میرے لبوں پر آج بھی تیرا وہ لمس
آج بھی ہے تیرے خوابوں کا بسیرا آنکھ میں
فرحان حنیف وارثییہ رستہ تو سیدھا اس کے گھر تک جا کر رکتا ہے
اے میرے آوارہ قدمو کس رخ پر لے آئے تم
فرحان حنیف وارثیروز مجھ کو وہ یاد آتا ہے
روز میں خود کو بھول جاتا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیوہ میرے نام کرے اپنی خوشبوئیں ارسال
میں اس کے نام کروں اپنی شاعری سوچوں
فرحان حنیف وارثیپرندے سو گئے جا کے گھروں میں
شجر جنگل میں پھر کیوں جاگتا ہے
فرحان حنیف وارثیمطمئن ہے یہ میری قوم بہت
تو بھی کچھ خوش گمانیاں دے جا
فرحان حنیف وارثیوہ آنکھوں سے اتر آیا ہے دل میں
اسی منظر کے پس منظر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرحان حنیف وارثیورق ورق ہیں یہاں حادثات روز و شب
کتاب زیست میں منسوب اب کروں کس سے
فرحان حنیف وارثیرات بھر کوئی سورج دہکتا لگے
میری آنکھوں کے یہ نور آنسو عجب
فرحان حنیف وارثییہ اور بات کہ بھولے گا خد و خال مگر
وہ مجھ کو یاد رکھے گا کسی کتھا کی طرح
فرحان حنیف وارثیدلوں کے میل سے آگے لبوں کے سلسلے سارے
جو لب خاموش ہوتے ہیں تو آنکھیں بات کرتی ہیں
فرحان حنیف وارثیاول اول تو اس کو سب دلچسپی سے پڑھتے ہیں
جیسے میرا چہرہ بھی اخبار کا کوئی کالم ہو
فرحان حنیف وارثیمیں بھی سپنے در آنے کے سب رستے مسدود کروں
تم بھی آنکھیں بند نہ کرنا وصل کا موسم آنے تک
فرحان حنیف وارثیہر سوچتا دماغ ہر اک دیکھتی نظر
لمحوں کی بھاگ دوڑ میں شامل ہے ان دنوں
join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
ادب اطفال2015
-