اب جو اک حسرت جوانی ہے
اب جو اک حسرت جوانی ہے
عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر نے جوانی کی حسرت کو بڑھاپے کی دلیل بنا دیا ہے۔ جب جوانی ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی کمی حسرت بن کر سامنے آتی ہے، اور یہی حسرت گزری ہوئی عمر کی نشانی ٹھہرتی ہے۔ شعر میں یادِ ماضی، افسوس اور وقت کے بےرحم گزرنے کا درد نہایت سادگی سے ابھرتا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.