Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abu Mohammad Wasil Bahraichi's Photo'

ابو محمد واصل بہرائچی

1922 - 2018 | بہرائج, انڈیا

ابو محمد واصل بہرائچی کے اشعار

346
Favorite

باعتبار

اگر تیری طرح تبلیغ کرتا پیر مے خانہ

تو دنیا بھر میں واعظ مے کشی ہی مے کشی ہوتی

سرد مہری سے تری گرمئ الفت نہ رہی

دل میں اٹھتا تھا جو ہر دم وہ شرارہ بھی گیا

رہ وفا میں انہیں کی خوشی کی بات کرو

وہ زندگی ہیں تو پھر زندگی کی بات کرو

ہنسا کرتے ہیں اکثر لوگ دیوانوں کی باتوں پر

جہاں والے نہیں سمجھے محبت کی زباں شاید

مجھے وہ باتوں باتوں میں اگر دیوانہ کہہ دیتے

تو دیوانوں میں میری معتبر دیوانگی ہوتی

مزاج حسن تو اک حال پر رہا قائم

لٹانے والوں نے سب کچھ لٹا کے دیکھ لیا

ترے خیال میں میں ہوں مرے خیال میں تو

مرے بغیر تری داستاں رہے نہ رہے

وفاداری غرور بے رخی کو ختم کر دے گی

زیادہ تو نہیں کچھ دن رہیں وہ بد گماں شاید

مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم

کیوں تنگ ہوں گے کشمکش زندگی سے ہم

کارواں عشق کی منزل کے قریں آ پہونچا

خود مرے دل میں مرے دل کا مکیں آ پہونچا

ایک ہی چیز ہے پردے میں کہ بیرون حجاب

مجھ کو ظاہر بھی کیا خود کو چھپایا بھی گیا

ہوش میں لانے کی تدبیر نہ کر اے ناصح

میں نے پایا ہے انہیں چاک گریباں ہو کر

راہ وفا میں جی کے مرے مر کے بھی جئے

کھیلا اسی طرح سے کئے زندگی سے ہم

دل کے آئینے میں جب آپ کی صورت دیکھی

جس کو دھوکا میں سمجھتا تھا وہ دھوکا بھی گیا

ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

نگاہ پردہ کشا کا کمال کیا کہنا

جہاں جہاں وہ چھپے اس نے جا کے دیکھ لیا

ظلمتوں کا گزر کہاں ممکن

ان کا روشن خیال آتا ہے

Recitation

بولیے