آفتاب شاہ کے اشعار
ہم تو اک تل پہ ہی بس خود کو فنا کر بیٹھے
اور کتنے ہیں جمالات کہاں جانتے ہیں
آپ واقف ہیں مرے دوست حسیں لفظوں سے
بدلے لہجوں کی کرامات کہاں جانتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
شاید وہ جا چکا ہے مگر دیکھ لو کہیں
چاہت کے امتحان میں اب تک یہیں نہ ہو
زندہ لوگوں کو نوالوں سا چبانے والے
میری میت پہ بھی آئیں گے خدا خیر کرے
مانگ لیتے ہیں بھروسے پہ کہ وہ دے دے گا
ہم خطا کار مناجات کہاں جانتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہار کو جیت کے پہلو میں بٹھا دیتے ہیں
ایسا کرتے ہیں چلو ہاتھ ملا لیتے ہیں
نکل گیا جو کہانی سے میں تمہاری کہیں
کسی کو کچھ نہ بتاؤگے مرتے جاؤ گے
یہ اس کا کھیل ہے جس کھیل میں ہر بار وہ یارو
مسلسل ہار کے بھی مجھ سے آخر جیت جاتا ہے
لکھوا دئے ہیں رب کو سبھی ظالموں کے نام
آئے گی سب کی باری ذرا دیکھتے رہو
ڈر تو نہیں مگر کہیں پتوں کے شور سے
دل کو گماں ہے آج کوئی حادثہ نہ ہو
در بدر میں ہی نہیں وقت بھی ان راہوں پر
زخمی احساس کی سنگت میں دکھی دکھتا ہے
ذات کی نرمی ذہنی ٹھنڈک شفقت ساری دنیا کی
اس نے رکھ دی مسجد دل میں جگ کی ساری ماؤں میں
ضربیں دے کر پلٹ کے دیکھا تو
منفی حاصل تھا پر وہ مثبت تھا