Ahmad Kamran's Photo'

احمد کامران

1976 | اوکاڑہ, پاکستان

مری وفا ہے مرے منہ پہ ہاتھ رکھے ہوئے

تو سوچتا ہے کہ کچھ بھی نہیں سمجھتا میں

چند پیڑوں کو ہی مجنوں کی دعا ہوتی ہے

سب درختوں پہ تو پتھر نہیں آیا کرتا

راس آئے گی محبت اس کو

جس سے ہوتے نہیں وعدے پورے

مجھ پہ تصویر لگا دی گئی ہے

کیا میں دیوار دکھائی دیا ہوں

تو نے اے عشق یہ سوچا کہ ترا کیا ہوگا

تیرے سر سے میں اگر ہاتھ اٹھا لیتا ہوں

چاہئے ہے مجھے انکار محبت مرے دوست

لیکن اس میں ترا انکار نہیں چاہئے ہے

کرۂ ہجر سے ہونا ہے نمودار مجھے

میں ترے عشق کا انکار اٹھانے لگا ہوں

پاؤں باندھے ہیں وفا سے جب نے

تیز رفتار دکھائی دیا ہوں

اک پل کا توقف بھی گراں بار ہے تجھ پر

اور ہم کہ تھکے ہارے مسافت سے گریزاں