کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
-
موضوع : شکوہ
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
-
موضوعات : ترغیبیاور 3 مزید
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
میرے نزدیک یہ دنیا بچوں کے کھیل کی جگہ جیسی ہے۔
میرے سامنے رات دن بس یہی تماشا چلتا رہتا ہے۔
مرزا غالب دنیا کو “بازیچۂ اطفال” کہہ کر اسے بےمعنی اور ہلکا ثابت کرتے ہیں، جیسے بچوں کا کھیل جس میں گہرائی کم ہو۔ “شب و روز” کی گردش ایک نہ ختم ہونے والے اسٹیج ڈرامے کی طرح لگتی ہے جسے شاعر محض دیکھ رہا ہے۔ جذبہ بیزاری اور بےتعلقی کا ہے: زندگی کی سنجیدگی چھن کر محض تماشہ رہ جاتی ہے۔
-
موضوع : دنیا
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب
تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے
کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
-
موضوع : راستہ
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
-
موضوعات : درداور 2 مزید
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
انقلاب ایک خواب ہے سو ہے
دل کی دنیا خراب ہے سو ہے
چاہئے ہے مجھے انکار محبت مرے دوست
لیکن اس میں ترا انکار نہیں چاہئے ہے
ہم ایسے جائیں گے لے کر بلائیں دنیا کی
کہیں نہ ہوگا کوئی حادثہ ہمارے بعد
چاہیں تو اس کو تیغ خموشی سے کاٹ دیں
لیکن جنوں سے جنگ زبانی کریں گے ہم