Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایٹی ٹیوڈ پر اشعار

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی

تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

جون ایلیا

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

مرزا غالب

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری

تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

جون ایلیا

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

اقبال ساجد

ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں

اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

احمد فراز

کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب

تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے

جواد شیخ

کاش وہ راستے میں مل جائے

مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے

فہمی بدایونی

راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا

اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

افتخار عارف

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے

وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

احمد فراز

انقلاب ایک خواب ہے سو ہے

دل کی دنیا خراب ہے سو ہے

جون ایلیا

چاہئے ہے مجھے انکار محبت مرے دوست

لیکن اس میں ترا انکار نہیں چاہئے ہے

احمد کامران

ہم ایسے جائیں گے لے کر بلائیں دنیا کی

کہیں نہ ہوگا کوئی حادثہ ہمارے بعد

سفر نقوی

چاہیں تو اس کو تیغ خموشی سے کاٹ دیں

لیکن جنوں سے جنگ زبانی کریں گے ہم

ابھنندن پانڈے

مجھے کریدنے والو میں ایک صحرا ہوں

کہ مجھ سے ریت ہی نکلے گی آبشار نہیں

ورون آنند

پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں

کہ میں وہ قیس نہیں ہوں جو مار کھا جائے

ورون آنند

کیوں اتنے مغرور ہیں راہیؔ کیوں اتنا اتراتے ہیں

گنگا تٹ ویران نہ ہوگا اک ان کے اٹھ جانے سے

راہی معصوم رضا

میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر

طوفان کے سینے میں اتر جاتا ہوں اکثر

واصف علی واصف

ہم کو تجدید ملاقات سے کب ہے انکار

لیکن اب پہلے انہیں ہاتھ بڑھانا ہوگا

اقبال صفی پوری

تلاطم خیز طوفانوں سے ٹکراتے رہے ہر دم

ڈبو دی ہم نے خود کشتی جوں ہی ساحل نظر آیا

واصف علی واصف
بولیے