Ahmad Rizwan's Photo'

احمد رضوان

1978 | ملتان, پاکستان

ایک مدت سے اسے دیکھ رہا ہوں احمدؔ

اور لگتا ہے ابھی ایک جھلک دیکھا ہے

کیا بات کروں جو باتیں تم سے کرنی تھیں

اب ان باتوں کا وقت نہیں کیا بات کروں

اجنبی لوگ ہیں میں جن میں گھرا رہتا ہوں

آشنا کوئی یہاں میرے فسانے کا نہیں

مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہم سفر ہوگا

ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں

یہ کون بولتا ہے مرے دل کے اندروں

آواز کس کی گونجتی ہے اس مکان میں

اڑتی ہے خاک دل کے دریچوں کے آس پاس

شاید مکین کوئی نہیں اس مکان میں

ہوتا نہ کوئی کار زمانہ مرے سپرد

بس اپنے کاروبار محبت کو دیکھتا