اخلاق احمد آہن کے اشعار
یہ کیسی جگہ ہے کہ دل کھو رہا ہے
بیاباں ہے صحرا ہے گلشن ہے کیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ستاروں کی گردش دلوں کا بچھڑنا
یہ کیسے خدا کی ہے کیسی خدائی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ جادو ادائیں اداؤں میں جادو
یہ پہنچایں ہم کو فنا سے بقا تک
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
راہ حیات میں نہ ملی ایک پل خوشی
غم کا یہ بوجھ دوش پہ سامان سا رہا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ترے فراق میں ہم نے بہائے اشک جگر
یہ سب نے چاہا مگر آئے تو لہو آئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
غم وجود کا ماتم کروں تو کیسے جیوں
مگر خدا ترے دامن پہ داغ ہے کہ نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
رسم دنیا کے سلاسل میں گرفتاری ہے
مت ٹھہرنا کہ کہیں پھانس جواں تر ہو جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کوئی جلتا ہے تماشا بن کے اس کی بزم میں
میں غریب شہر تھا پنہاں کا پنہاں جل گیا
آستانوں کی قدم بوسی میں پنہاں خون سر
اور وفور شوق میں یہ سر ہو خم کچھ اور ہے
ساری دنیا جیسے نامردی کو اوڑھے ہر طرف
بس تماشائی کھڑی ہے چشم حیرانی کے ساتھ
اگر ضمیر ہے تابوت بے حسی میں بند
یزید شہر سے بیعت میں پھر قباحت کیا
اے جمال بے بدل لیکن ادا میں بے رخی
ہو گئیں صدیاں کہ چشم تشنہ تیری منتظر
ذات خاکی کی تہوں میں خفتہ ہیں انواع خاک
رنگہائے تہ بہ تہ کا پیچ و خم کچھ اور ہے
لٹا یہ کارواں کب کا نہ جانے کون تھی منزل
مگر احباب اب بھی زعم چغتائی میں جیتے ہیں
اک موج غم گزیدگی سے ہیں نڈھال سب
آئینۂ درست میں سب ہی سراب پوش
رستم ہے گر جو عشق میں بن کر و فر کے آ
تہمینۂ بتاں کے یہاں بے سپر کے آ
ہے کاروان قدسیٔ حرف ازل رواں
ہر جہل و ظلم و ظلمت و زیر و زبر کے ساتھ
وحشت دنیا گزیدہ اب ہیں ذات و کائنات
شرح نالہ گریۂ احساس و جاں کیسے کروں
سکوں کہیں بھی نہیں بزم کامرانی میں
مسافتیں نہیں طے ہوتیں لا مکانی میں
زعم تقا حجاب تظاہر نفاق کا
ہر جا رقم ہے اس میں بھی اذن و قم دروغ
مفقود ہے فراست وجداں سگاں میں ہوں
اک حسرت مروت کج دیدگاں میں ہوں
دلوں میں نور ہے ترسیل گوش کر بھی ہو
پیام جاتے نہیں طرز لن ترانی میں
پنہاں ہیں صد سوال پس پردۂ حیا
دل دے دیا جواب تھا لیکن رہے خموش