Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Akhlaq Ahmad Ahan's Photo'

اخلاق احمد آہن

1974 | دلی, انڈیا

محقق اور شاعر ،اپنی طویل نظم "سوچنے پہ پہرا ہے "کے لیے مشہور/ پروفیسر جے این یو

محقق اور شاعر ،اپنی طویل نظم "سوچنے پہ پہرا ہے "کے لیے مشہور/ پروفیسر جے این یو

اخلاق احمد آہن کے اشعار

242
Favorite

باعتبار

یہ کیسی جگہ ہے کہ دل کھو رہا ہے

بیاباں ہے صحرا ہے گلشن ہے کیا ہے

ستاروں کی گردش دلوں کا بچھڑنا

یہ کیسے خدا کی ہے کیسی خدائی

وہ جادو ادائیں اداؤں میں جادو

یہ پہنچایں ہم کو فنا سے بقا تک

راہ حیات میں نہ ملی ایک پل خوشی

غم کا یہ بوجھ دوش پہ سامان سا رہا

ترے فراق میں ہم نے بہائے اشک جگر

یہ سب نے چاہا مگر آئے تو لہو آئے

غم وجود کا ماتم کروں تو کیسے جیوں

مگر خدا ترے دامن پہ داغ ہے کہ نہیں

رسم دنیا کے سلاسل میں گرفتاری ہے

مت ٹھہرنا کہ کہیں پھانس جواں تر ہو جائے

کوئی جلتا ہے تماشا بن کے اس کی بزم میں

میں غریب شہر تھا پنہاں کا پنہاں جل گیا

آستانوں کی قدم بوسی میں پنہاں خون سر

اور وفور شوق میں یہ سر ہو خم کچھ اور ہے

ساری دنیا جیسے نامردی کو اوڑھے ہر طرف

بس تماشائی کھڑی ہے چشم حیرانی کے ساتھ

اگر ضمیر ہے تابوت بے حسی میں بند

یزید شہر سے بیعت میں پھر قباحت کیا

اے جمال بے بدل لیکن ادا میں بے رخی

ہو گئیں صدیاں کہ چشم تشنہ تیری منتظر

ذات خاکی کی تہوں میں خفتہ ہیں انواع خاک

رنگہائے تہ بہ تہ کا پیچ و خم کچھ اور ہے

لٹا یہ کارواں کب کا نہ جانے کون تھی منزل

مگر احباب اب بھی زعم چغتائی میں جیتے ہیں

اک موج غم گزیدگی سے ہیں نڈھال سب

آئینۂ درست میں سب ہی سراب پوش

رستم ہے گر جو عشق میں بن کر و فر کے آ

تہمینۂ بتاں کے یہاں بے سپر کے آ

ہے کاروان قدسیٔ حرف ازل رواں

ہر جہل و ظلم و ظلمت و زیر و زبر کے ساتھ

وحشت دنیا گزیدہ اب ہیں ذات و کائنات

شرح نالہ گریۂ احساس و جاں کیسے کروں

سکوں کہیں بھی نہیں بزم کامرانی میں

مسافتیں نہیں طے ہوتیں لا مکانی میں

زعم تقا حجاب تظاہر نفاق کا

ہر جا رقم ہے اس میں بھی اذن و قم دروغ

مفقود ہے فراست وجداں سگاں میں ہوں

اک حسرت مروت کج دیدگاں میں ہوں

دلوں میں نور ہے ترسیل گوش کر بھی ہو

پیام جاتے نہیں طرز لن ترانی میں

تیرا جلوہ ہے آج توبہ شکن

آؤ شوق حجاب رہنے دو

پنہاں ہیں صد سوال پس پردۂ حیا

دل دے دیا جواب تھا لیکن رہے خموش

Recitation

بولیے