Akhtar Imam Rizvi's Photo'

اختر امام رضوی

غزل 11

اشعار 15

اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ

ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھا

مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی

میں کہ جب گرد سفر سے نکلا

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

ایک کانٹا سا جگر سے نکلا

تصویری شاعری 1

دنیا بھی پیش آئی بہت بے_رخی کے ساتھ ہم نے بھی زخم کھائے بڑی سادگی کے ساتھ اک مشت_خاک آگ کا دریا لہو کی لہر کیا کیا روایتیں ہیں یہاں آدمی کے ساتھ اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب روتے رہے لپٹ کے ہر اک اجنبی کے ساتھ جنگل کی دھوپ چھاؤں ہی جنگل کا حسن ہے سایوں کو بھی قبول کرو روشنی کے ساتھ تم راستے کی گرد نہ ہو جاؤ تو کہو دو_چار گام چل کے تو دیکھو کسی کے ساتھ کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی جلتی رہی حیات بڑی خامشی کے ساتھ