Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Akhtar Muslimi's Photo'

اختر مسلمی

1928 - 1989 | اعظم گڑہ, انڈیا

روایت کے گہرے شعور کے ساتھ شاعری کرنے کے لیے معروف

روایت کے گہرے شعور کے ساتھ شاعری کرنے کے لیے معروف

اختر مسلمی کے اشعار

1.6K
Favorite

باعتبار

ایک ہی انجام ہے اے دوست حسن و عشق کا

شمع بھی بجھتی ہے پروانوں کے جل جانے کے بعد

فریب خوردہ ہے اتنا کہ میرے دل کو ابھی

تم آ چکے ہو مگر انتظار باقی ہے

میرے کردار میں مضمر ہے تمہارا کردار

دیکھ کر کیوں مری تصویر خفا ہو تم لوگ

اقرار محبت تو بڑی بات ہے لیکن

انکار محبت کی ادا اور ہی کچھ ہے

مرے دل پہ ہاتھ رکھ کر مجھے دینے والے تسکیں

کہیں دل کی دھڑکنوں سے تجھے چوٹ آ نہ جائے

دیہات کے بسنے والے تو اخلاص کے پیکر ہوتے ہیں

اے کاش نئی تہذیب کی رو شہروں سے نہ آتی گاؤں میں

عجیب الجھن میں تو نے ڈالا مجھے بھی اے گردش زمانہ

سکون ملتا نہیں قفس میں نہ راس آتا ہے آشیانہ

انصاف کے پردے میں یہ کیا ظلم ہے یارو

دیتے ہو سزا اور خطا اور ہی کچھ ہے

خوشی ہی شرط نہیں لطف زندگی کے لیے

متاع غم بھی ضروری ہے آدمی کے لیے

ہاں یہ بھی طریقہ اچھا ہے تم خواب میں ملتے ہو مجھ سے

آتے بھی نہیں غم خانے تک وعدہ بھی وفا ہو جاتا ہے

اشک وہ ہے جو رہے آنکھ میں گوہر بن کر

اور ٹوٹے تو بکھر جائے نگینوں کی طرح

رہ وفا میں لٹا کر متاع قلب و جگر

کیا ہے تیری محبت کا حق ادا میں نے

تمہاری بزم کی یوں آبرو بڑھا کے چلے

پئے بغیر ہی ہم پاؤں لڑکھڑا کے چلے

جو با خبر تھے وہ دیتے رہے فریب مجھے

ترا پتہ جو ملا ایک بے خبر سے ملا

صبر و قرار دل مرے جانے کہاں چلے گئے

بچھڑے ہوئے نہ پھر ملے ایسے ہوئے جدا کہ بس

دی اس نے مجھ کو جرم محبت کی وہ سزا

کچھ بے قصور لوگ سزا مانگنے لگے

مجھ کو منظور نہیں عشق کو رسوا کرنا

ہے جگر چاک مگر لب پہ ہنسی ہے اے دوست

سن کے روداد الم میری وہ ہنس کر بولے

اور بھی کوئی فسانہ ہے تمہیں یاد کہ بس

ہر شاخ چمن ہے افسردہ ہر پھول کا چہرہ پژمردہ

آغاز ہی جب ایسا ہے تو پھر انجام بہاراں کیا ہوگا

تھیں تمہاری جس پہ نوازشیں کبھی تم بھی جس پہ تھے مہرباں

یہ وہی ہے اخترؔ مسلمی تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وفا کرو جفا ملے بھلا کرو برا ملے

ہے ریت دیش دیش کی چلن چلن کی بات ہے

اس کو بھڑکاؤ نہ دامن کی ہوائیں دے کر

شعلۂ عشق مرے دل میں دبا رہنے دو

کچھ اس طرح کے بہاروں نے گل کھلائے ہیں

کہ اب تو فصل بہاراں سے ڈر لگے ہے مجھے

لذت درد ملی جرم محبت میں اسے

وہ سزا پائی ہے دل نے کہ خطا جھوم اٹھی

Recitation

بولیے