Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Amir Hamza Saqib's Photo'

امیر حمزہ ثاقب

1971 | بھیونڈی, انڈیا

نہایت باصلاحیت اردو شاعر، اپنے منفرد انداز اور گہری ادبی سمجھ کے لیے مشہور

نہایت باصلاحیت اردو شاعر، اپنے منفرد انداز اور گہری ادبی سمجھ کے لیے مشہور

امیر حمزہ ثاقب کے اشعار

552
Favorite

باعتبار

تہہ کر چکے بساط غم و فکر روزگار

تب خانقاہ عشق و محبت میں آئے ہیں

تمہاری ذات حوالہ ہے سرخ روئی کا

تمہارے ذکر کو سب شرط فن بناتے ہیں

یہ گرد ہے مری آنکھوں میں کن زمانوں کی

نئے لباس بھی اب تو پرانے لگتے ہیں

تو آیا لوٹ آیا ہے گزرے دنوں کا نور

چہروں پہ اپنے ورنہ تو برسوں کا زنگ تھا

میری دنیا اسی دنیا میں کہیں رہتی ہے

ورنہ یہ دنیا کہاں حسن طلب تھی میرا

تیری خوشبو ترا پیکر ہے مرے شعروں میں

جان یوں ہی نہیں یہ طرز مثالی میرا

ایک جہان لا یعنی غرقاب ہوا

ایک جہان معنی کی تشکیل ہوئی

روشن الاؤ ہوتے ہی آیا ترنگ میں

وہ قصہ گو خود اپنے میں اک داستان تھا

مکاں اجاڑ تھا اور لا مکاں کی خواہش تھی

سو اپنے آپ سے باہر قیام کر لیا ہے

خبر بھی ہے تجھے اس دفتر محبت کو

جلانے جلنے میں کیا کیا زمانے لگتے ہیں

میری برہنہ پشت تھی کوڑوں سے سبز و سرخ

گورے بدن پہ اس کے بھی نیلا نشان تھا

لہو جگر کا ہوا صرف رنگ دست حنا

جو سودا سر میں تھا صحرا کھنگالنے میں گیا

پھر بدن میں تھکن کی گرد لیے

پھر لب جوئے بار ہیں ہم لوگ

Recitation

بولیے