عارف عبدالمتین
غزل 18
نظم 2
اشعار 8
کبھی خیال کے رشتوں کو بھی ٹٹول کے دیکھ
میں تجھ سے دور سہی تجھ سے کچھ جدا بھی نہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ذات کا آئینہ جب دیکھا تو حیرانی ہوئی
میں نہ تھا گویا کوئی مجھ سا تھا میرے روبرو
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وفا نگاہ کی طالب ہے امتحاں کی نہیں
وہ میری روح میں جھانکے نہ آزمائے مجھے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تھا اعتماد حسن سے تو اس قدر تہی
آئینہ دیکھنے کا تجھے حوصلہ نہ تھا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
چاند میرے گھر میں اترا تھا کہیں ڈوبا نہ تھا
اے مرے سورج ابھی آنا ترا اچھا نہ تھا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے