Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Deepak Purohit's Photo'

دیپک پروہت

1954 | جے پور, انڈیا

دیپک پروہت کے اشعار

417
Favorite

باعتبار

یوں گفتگوئے الفت دلچسپ ہم کریں گے

آنکھوں سے تم کہو گے آنکھوں سے ہم سنیں گے

وطن پرستی ہمارا مذہب ہیں جسم و جاں ملک کی امانت

کریں گے برپا قہر عدو پر رہے گا دائم وطن سلامت

یہ کیسی بد دعا دی ہے کسی نے

سمندر ہوں مگر کھارا ہوا ہوں

ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاں

نمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاں

اچھا ہوا زبان خموشی نہ تم پڑھے

شکوے مرے وگرنہ رلاتے تمہیں بہت

ہوس زر نے کیا رشتوں کا جو حال نہ پوچھ

خوں رلاتا ہے یہاں خون کا رشتہ اپنا

کہ ہے مختصر داستاں عشق کی

گلے مل کے کوئی گلے پڑ گیا

خوب رو کون یہ آیا چمن میں آج کہ یاں

شرم سے سرخ ہوئے جاتے ہیں یہ پھول سبھی

تھا کبھی ان کی نگاہوں میں بلند اپنا مقام

اتنی اونچائی سے گر کر بھی کوئی بچتا ہے

عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاں

چونی چلتی ہے روپیے میں حسن والوں کی

جب آنا خواب میں ہولے سے نرمی سے قدم رکھنا

گراں ہے اک ذرا آہٹ ترے محو تصور کو

خوشامد تابع داری منت و خدمت سجود حسن

ازل سے دیدنی ہے بے بسی و عاجزیٔ عشق

لمحات وصل یاد جو آئے شب فراق

یک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیار

سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاری

کہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیں

ہے خوب منظر چارہ گری کہ ہم نے یہاں

دعا کے در پہ ہے دیکھا دوا کو سجدے میں

جب آنا خواب میں ہولے سے نرمی سے قدم رکھنا

گراں ہے اک ذرا آہٹ ترے محو تصور کو

ایک عمر بھر میں طے یہ سفر مختصر ہوا

شہر خموشاں گھر سے بہت دور تو نہ تھا

عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاں

چونی چلتی ہے روپے میں حسن والوں کی

تو بچ رہے گا یقیناً یہ صرف آنکھوں میں

بچایا تم نے نہ پانی جو وقت کے رہتے

تھا کبھی ان کی نگاہوں میں بلند اپنا مقام

اتنی اونچائی سے گر کر بھی کوئی بچتا ہے

کہاں جرأت ان اشکوں کی کہ دہری آنکھ کی لانگھیں

ہے پہرا ضبط کا ایسا کہ سہمے سہمے رہتے ہیں

Recitation

بولیے