Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hasan Abidi's Photo'

حسن عابدی

1929 - 2005 | کراچی, پاکستان

حسن عابدی کے اشعار

دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا

افق درد سے سینے میں اجالا اترا

کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے

ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے

اشکوں میں پرو کے اس کی یادیں

پانی پہ کتاب لکھ رہا ہوں

سب امیدیں مرے آشوب تمنا تک تھیں

بستیاں ہو گئیں غرقاب تو دریا اترا

شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں

بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں

دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں

اک دین تھا سو اس پہ لٹائے ہوئے تو ہیں

یاد یاراں دل میں آئی ہوک بن کر رہ گئی

جیسے اک زخمی پرندہ جس کے پر ٹوٹے ہوئے

اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ

پارساؤں دیوتاؤں قاتلوں کے درمیاں

تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے

گل کو بھی ہاتھ لگاؤ تو لہو دیتا ہے

Recitation

بولیے