آشوب شاعری

ایک میں ہوں کہ اس آشوب نوا میں چپ ہوں

ورنہ دنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے

عرفان صدیقی

کیا رات کے آشوب میں وہ خود سے لڑا تھا

آئینے کے چہرے پہ خراشیں سی پڑی ہیں

آفتاب اقبال شمیم

سب امیدیں مرے آشوب تمنا تک تھیں

بستیاں ہو گئیں غرقاب تو دریا اترا

حسن عابدی

بنی ہیں شہر آشوب تمنا

خمار آلودہ آنکھیں رات بھر کی

عزیز لکھنوی

متعلقہ موضوعات