مائل لکھنوی کے اشعار
نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئی
میں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئی
یاد اور ان کی یاد کی اللہ رے محویت
جیسے تمام عمر کی فرصت خرید لی
محبت اور مائلؔ جلد بازی کیا قیامت ہے
سکون دل بنے گا اضطراب آہستہ آہستہ
دعوۂ انسانیت مائلؔ ابھی زیبا نہیں
پہلے یہ سوچو کسی کے کام آ سکتا ہوں میں
میں نے دیکھے ہیں دہکتے ہوئے پھولوں کے جگر
دل بینا میں ہے وہ نور تمہیں کیا معلوم
سیلاب عشق غرق کن عقل و ہوش تھا
اک بحر تھا کہ شام و سحر گرم جوش تھا