تخیل کا جادو اور مرزا غالب کا کلام
تخیل محض خیالات تک محدود نہیں بلکہ یہ الفاظ اور معلومات کو ایک نئی اور حیرت انگیز ترتیب دے کر پیش کرتا ہے، جس کی بہترین مثالیں مرزا غالب کے کلام میں ملتی ہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
تخیل محض خیالات تک محدود نہیں بلکہ یہ الفاظ اور معلومات کو ایک نئی اور حیرت انگیز ترتیب دے کر پیش کرتا ہے، جس کی بہترین مثالیں مرزا غالب کے کلام میں ملتی ہیں۔
اس مضمون میں جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح مولانا حالی نے 'مقدمہ شعر و شاعری' کے ذریعے روایتی غزل کو مسترد کیا، لیکن اپنے تنقیدی نظریات کو اس طرح وضع کیا کہ ان کے استاد مرزا غالب کی عظمت پر کوئی آنچ نہ آئے۔
ذہنی ساخت کی مماثلت کے باوجود، میر کی شاعری ایک وسیع اور ہنگامہ خیز شہر کی مانند ہے، جبکہ غالب کا کلام ایک پرتکلف اور طلسمی دیوان خانہ ہے۔