Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nadeem Bhabha's Photo'

ندیم بھابھہ

1977 | لاہور, پاکستان

ندیم بھابھہ کے اشعار

2.3K
Favorite

باعتبار

محبت، ہجر، نفرت مل چکی ہے

میں تقریباً مکمل ہو چکا ہوں

ہم غلامی کو مقدر کی طرح جانتے ہیں

ہم تری جیت تری مات سے نکلے ہوئے ہیں

کچھ اس لیے بھی اکیلا سا ہو گیا ہوں ندیمؔ

سبھی کو دوست بنایا ہے دشمنی نہیں کی

اور کوئی پہچان مری بنتی ہی نہیں

جانتے ہیں سب لوگ کہ بس تیرا ہوں میں

محبت نے اکیلا کر دیا ہے

میں اپنی ذات میں اک قافلہ تھا

سارے سوال آسان ہیں مشکل ایک جواب

ہم بھی ایک جواب ہیں کوئی سوال کرے

بد نصیبی کہ عشق کر کے بھی

کوئی دھوکہ نہیں ہوا مرے ساتھ

دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا

لگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیا

دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے

کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے

میں لو میں لو ہوں، الاؤ میں ہوں الاؤ ندیمؔ

سو ہر چراغ مرا اعتراف کرتا رہا

میں نے منزل کی دعا مانگی تھی

میری رفتار بڑھا دی گئی ہے

اور اب کھلا کہ وہ کعبہ نہیں ترا گھر تھا

تمام عمر میں جس کا طواف کرتا رہا

ضرور اس کا کوئی پیاس سے مرا ہوگا

وہ کتنے پیار سے پانی پلا رہا تھا ہمیں

پردہ داروں نے خود کشی کر لی

صحن جھانکا گیا کسی چھت سے

غلط نہ جان کہ آنکھیں نہیں رہیں میری

سو چھو رہا ہوں کہ چہرہ سمجھ میں آ جائے

کچھ پھولوں کی خاطر بھی کچھ پھولوں کا

سب سے اچھا رنگ چرانا پڑتا ہے

ہم کسی زعم میں ناراض ہوئے ہیں تجھ سے

ہم کسی بات پہ اوقات سے نکلے ہوئے ہیں

اس دنیا کو چھوڑ کے جس میں تم بھی ہو

جاتا کون ہے لیکن جانا پڑتا ہے

اب محبت کا سبب ہے وحشت

ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے

اب تو ہی میری خالی ہتھیلی کی لاج رکھ

مجھ سے تو کوئی فرق عبادت میں رہ گیا

ہماری روح پرندوں کو سونپ دی جائے

کہ یہ بدن تو گنہ گار ہو گئے صاحب

بات پیڑوں کی نہیں، غم ہے پرندوں کا ندیمؔ

گھونسلے جن کے کوئی توڑ دیا کرتا تھا

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں

کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں

انگلیاں پھیر میرے بالوں میں

یہ مرا درد سر نہیں جاتا

ہمارے پاؤں میں کیلیں اور آنکھوں سے لہو ٹپکے

ہماری جو بھی حالت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے

پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں

آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں

جانے کس کو راضی کرنا ہے مجھ کو

جانے کس کی خاطر ناچ رہا ہوں میں

خدا کی طرح کوئی آدمی بھی ہے شاید

نظر جو آتا نہیں آس پاس ہو کر بھی

عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے

کوئی بے عشق مر نہیں جاتا

تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو

ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے

مجھ کو مٹی کے پیالے میں پلا تازہ شراب

جسم ہونے لگا بے کار کوئی مستی ہو

خدا کرے تجھے تہذیب مے کشی ہو نصیب

خدا کرے تجھے نشہ سمجھ میں آ جائے

یاد ابھی نہیں ہمیں ذہن پہ زور دے چکے

تم ہی سے ملنے آئے تھے تم سے ہی کام تھا ضرور

ایک رومال آنسوؤں سے بھرا

اور اک خط جلا ہوا مرے پاس

مجھے دریا، کبھی صحرا کے حوالے کر کے

وہ کہانی کو نیا موڑ دیا کرتا تھا

اپنی گردن جھکا کے بات کرو

تم نکالے گئے ہو جنت سے

تم نے جب اس کی بات کی تم پہ بھی پیار آ گیا

چوما نہیں تمہیں میاں گرچہ مقام تھا ضرور

لوگ کردار بننا چاہتے ہیں

جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے

چراغ دفن کیے تھے ندیمؔ قبروں میں

زمیں سے چاند نمودار ہو گئے صاحب

یہ تری گفتگو کا لمحہ ہے

اس گھڑی ہے مرا خدا مرے پاس

اے مجھے خواب دکھاتے ہوئے لوگو سن لو

میرا دکھ یہ ہے کوئی خواب نہیں بھولتا میں

تجھے کچھ وقت چاہئے مری جان

وقت ہی تو نہیں بچا مرے پاس

گلے لگا کے اسے خواب میں بہت روئے

اور اتنا روئے کہ بیدار ہو گئے صاحب

ہم سے کھیلا گیا ہے سچ مچ میں

یا کھلونے کا تجربہ کیا ہے

بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو

تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں

Recitation

بولیے