ندیم بھابھہ کے اشعار
محبت، ہجر، نفرت مل چکی ہے
میں تقریباً مکمل ہو چکا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم غلامی کو مقدر کی طرح جانتے ہیں
ہم تری جیت تری مات سے نکلے ہوئے ہیں
کچھ اس لیے بھی اکیلا سا ہو گیا ہوں ندیمؔ
سبھی کو دوست بنایا ہے دشمنی نہیں کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اور کوئی پہچان مری بنتی ہی نہیں
جانتے ہیں سب لوگ کہ بس تیرا ہوں میں
محبت نے اکیلا کر دیا ہے
میں اپنی ذات میں اک قافلہ تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سارے سوال آسان ہیں مشکل ایک جواب
ہم بھی ایک جواب ہیں کوئی سوال کرے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بد نصیبی کہ عشق کر کے بھی
کوئی دھوکہ نہیں ہوا مرے ساتھ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا
لگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیا
میں لو میں لو ہوں، الاؤ میں ہوں الاؤ ندیمؔ
سو ہر چراغ مرا اعتراف کرتا رہا
میں نے منزل کی دعا مانگی تھی
میری رفتار بڑھا دی گئی ہے
اور اب کھلا کہ وہ کعبہ نہیں ترا گھر تھا
تمام عمر میں جس کا طواف کرتا رہا
پردہ داروں نے خود کشی کر لی
صحن جھانکا گیا کسی چھت سے
ضرور اس کا کوئی پیاس سے مرا ہوگا
وہ کتنے پیار سے پانی پلا رہا تھا ہمیں
غلط نہ جان کہ آنکھیں نہیں رہیں میری
سو چھو رہا ہوں کہ چہرہ سمجھ میں آ جائے
اب محبت کا سبب ہے وحشت
ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے
انگلیاں پھیر میرے بالوں میں
یہ مرا درد سر نہیں جاتا
-
موضوع : رومان
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بات پیڑوں کی نہیں، غم ہے پرندوں کا ندیمؔ
گھونسلے جن کے کوئی توڑ دیا کرتا تھا
ہماری روح پرندوں کو سونپ دی جائے
کہ یہ بدن تو گنہ گار ہو گئے صاحب
اب تو ہی میری خالی ہتھیلی کی لاج رکھ
مجھ سے تو کوئی فرق عبادت میں رہ گیا
کچھ پھولوں کی خاطر بھی کچھ پھولوں کا
سب سے اچھا رنگ چرانا پڑتا ہے
ہمارے پاؤں میں کیلیں اور آنکھوں سے لہو ٹپکے
ہماری جو بھی حالت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے
یاد ابھی نہیں ہمیں ذہن پہ زور دے چکے
تم ہی سے ملنے آئے تھے تم سے ہی کام تھا ضرور
ہم کسی زعم میں ناراض ہوئے ہیں تجھ سے
ہم کسی بات پہ اوقات سے نکلے ہوئے ہیں
-
موضوع : خفا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مجھے دریا، کبھی صحرا کے حوالے کر کے
وہ کہانی کو نیا موڑ دیا کرتا تھا
-
موضوع : صحرا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ایک رومال آنسوؤں سے بھرا
اور اک خط جلا ہوا مرے پاس
خدا کرے تجھے تہذیب مے کشی ہو نصیب
خدا کرے تجھے نشہ سمجھ میں آ جائے
-
موضوع : مے کشی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جانے کس کو راضی کرنا ہے مجھ کو
جانے کس کی خاطر ناچ رہا ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں
کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں
-
موضوع : جدائی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس دنیا کو چھوڑ کے جس میں تم بھی ہو
جاتا کون ہے لیکن جانا پڑتا ہے
یہ تری گفتگو کا لمحہ ہے
اس گھڑی ہے مرا خدا مرے پاس
-
موضوع : خدا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چراغ دفن کیے تھے ندیمؔ قبروں میں
زمیں سے چاند نمودار ہو گئے صاحب
تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو
ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مجھ کو مٹی کے پیالے میں پلا تازہ شراب
جسم ہونے لگا بے کار کوئی مستی ہو
-
موضوع : مے کشی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اپنی گردن جھکا کے بات کرو
تم نکالے گئے ہو جنت سے
لوگ کردار بننا چاہتے ہیں
جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے
خدا کی طرح کوئی آدمی بھی ہے شاید
نظر جو آتا نہیں آس پاس ہو کر بھی
عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے
کوئی بے عشق مر نہیں جاتا
تم نے جب اس کی بات کی تم پہ بھی پیار آ گیا
چوما نہیں تمہیں میاں گرچہ مقام تھا ضرور
-
موضوع : بوسہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں
آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں
-
موضوع : گاؤں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو
تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں
-
موضوع : التجا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
گلے لگا کے اسے خواب میں بہت روئے
اور اتنا روئے کہ بیدار ہو گئے صاحب
-
موضوع : خواب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اے مجھے خواب دکھاتے ہوئے لوگو سن لو
میرا دکھ یہ ہے کوئی خواب نہیں بھولتا میں
-
موضوع : خواب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم سے کھیلا گیا ہے سچ مچ میں
یا کھلونے کا تجربہ کیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تجھے کچھ وقت چاہئے مری جان
وقت ہی تو نہیں بچا مرے پاس
-
موضوع : وقت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ