ناطق لکھنوی کے اشعار
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مر مر کے اگر شام تو رو رو کے سحر کی
یوں زندگی ہم نے تری دوری میں بسر کی
مر مر کے اگر شام تو رو رو کے سحر کی
یوں زندگی ہم نے تری دوری میں بسر کی
ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت
پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے
ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت
پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے
دل ہے کس کا جس میں ارماں آپ کا رہتا نہیں
فرق اتنا ہے کہ سب کہتے ہیں میں کہتا نہیں
دل ہے کس کا جس میں ارماں آپ کا رہتا نہیں
فرق اتنا ہے کہ سب کہتے ہیں میں کہتا نہیں
آزادیوں کا حق نہ ادا ہم سے ہو سکا
انجام یہ ہوا کہ گرفتار ہو گئے
آزادیوں کا حق نہ ادا ہم سے ہو سکا
انجام یہ ہوا کہ گرفتار ہو گئے
دل رہے یا نہ رہے زخم بھرے یا نہ بھرے
چارہ سازوں کی خوشامد مجھے منظور نہیں
دل رہے یا نہ رہے زخم بھرے یا نہ بھرے
چارہ سازوں کی خوشامد مجھے منظور نہیں
میکشو مے کی کمی بیشی پہ ناحق جوش ہے
یہ تو ساقی جانتا ہے کس کو کتنا ہوش ہے
میکشو مے کی کمی بیشی پہ ناحق جوش ہے
یہ تو ساقی جانتا ہے کس کو کتنا ہوش ہے
اک داغ دل نے مجھ کو دیئے بے شمار داغ
پیدا ہوئے ہزار چراغ اس چراغ سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک داغ دل نے مجھ کو دیئے بے شمار داغ
پیدا ہوئے ہزار چراغ اس چراغ سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دو عالم سے گزر کے بھی دل عاشق ہے آوارہ
ابھی تک یہ مسافر اپنی منزل پر نہیں آیا
دو عالم سے گزر کے بھی دل عاشق ہے آوارہ
ابھی تک یہ مسافر اپنی منزل پر نہیں آیا
ان کے لب پر ذکر آیا بے حجابانہ میرا
منزل تکمیل تک پہونچا اب افسانہ میرا
ان کے لب پر ذکر آیا بے حجابانہ میرا
منزل تکمیل تک پہونچا اب افسانہ میرا
محبت آشنا دل مذہب و ملت کو کیا جانے
ہوئی روشن جہاں بھی شمع پروانہ وہیں آیا
محبت آشنا دل مذہب و ملت کو کیا جانے
ہوئی روشن جہاں بھی شمع پروانہ وہیں آیا
مری جانب سے ان کے دل میں کس شکوے پہ کینہ ہے
وہ شکوہ جو زباں پر کیا ابھی دل میں نہیں آیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مری جانب سے ان کے دل میں کس شکوے پہ کینہ ہے
وہ شکوہ جو زباں پر کیا ابھی دل میں نہیں آیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی
ہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی
ہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ