نعمان بدر کے اشعار
غول کے غول مرے صحن میں آ بیٹھتے ہیں
یہ پرندے مجھے ہجرت نہیں کرنے دیتے
ہم کو خوشیاں بھی اداسی کے لفافے میں ملیں
ہم سا بد بخت زمانے میں نہیں ہے کوئی
تمہارے ساتھ اک دنیا کھڑی ہے
ہمارے ساتھ تو ہم بھی نہیں ہیں
میں کہ محروم تھا آواز کی رعنائی سے
تم جو آئے ہو تو احساس بھی سن سکتا ہوں
میں کاٹا جاؤں گا سب کو عزیز ہوتے ہوئے
سڑک کے بیچ میں آیا ہوا درخت ہوں میں
زیب دیتا ہے اسے اتنا تغافل مجھ سے
وہ کہیں اور بھی مصروف وفا ہے شاید
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہمارے بعد بھی تم قہقہے لگاتے ہو
تمہارے بعد تو ہم بات بھی نہیں کرتے
لفظ احساس کو تصویر نہیں کر سکتے
عشق دنیا کی زبانوں سے بڑا ہے شاید
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ لمحہ جس میں ہم آج چھپ کر گلے ملے ہیں
اگر مقدر نہیں ملا تو سزا بنے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ