قلق میرٹھی کے اشعار
تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
تجھ سے اے زندگی گھبرا ہی چلے تھے ہم تو
پر تشفی ہے کہ اک دشمن جاں رکھتے ہیں
ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہو
یہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیں
زلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزا شیریں
سبھی مجبور ہیں دل سے محبت آ ہی جاتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
موسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا
اس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھا
ہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہے
کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قید
کچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کا
نہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ میں ہوں نہ تو ہے
ہزاروں تصور اور اک آرزو ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خدا سے ڈرتے تو خوف خدا نہ کرتے ہم
کہ یاد بت سے حرم میں بکا نہ کرتے ہم
بوسہ دینے کی چیز ہے آخر
نہ سہی ہر گھڑی کبھی ہی سہی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھا
دیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھا
پہلے رکھ لے تو اپنے دل پر ہاتھ
پھر مرے خط کو پڑھ لکھا کیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہے
کیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھا
واعظ یہ مے کدہ ہے نہ مسجد کہ اس جگہ
ذکر حلال پر بھی ہے فتویٰ حرام کا
رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا تو
ساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیا
نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے
فقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے
کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی
کون جانے تھا اس کا نام و نمود
میری بربادی سے بنا ہے عشق
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرا
یہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلا
زہے قسمت کہ اس کے قیدیوں میں آ گئے ہم بھی
ولے شور سلاسل میں ہے اک کھٹکا رہائی کا
جبین پارسا کو دیکھ کر ایماں لرزتا ہے
معاذ اللہ کہ کیا انجام ہے اس پارسائی کا
جھگڑا تھا جو دل پہ اس کو چھوڑا
کچھ سوچ کے صلح کر گئے ہم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوے
ایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتا
دل کے ہر جزو میں جدائی ہے
درد اٹھے آبلہ اگر بیٹھے
کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نماز
حق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعد
نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھی
خبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتا
امن اور تیرے عہد میں ظالم
کس طرح خاک رہ گزر بیٹھے
بے تکلف مقام الفت ہے
داغ اٹھے کہ آبلہ بیٹھے
-
موضوع : آبلہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دور
گھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریں
آسماں اہل زمیں سے کیا کدورت ناک تھا
مدعی بھی خاک تھی اور مدعا بھی خاک تھا
محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
جو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانا
اس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتا
تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیں
تری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیں
کثرت سجدہ سے پشیماں ہیں
کہ ترا نقش پا مٹا بیٹھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جی ہے یہ بن لگے نہیں رہتا
کچھ تو ہو شغل عاشقی ہی سہی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تیرا دیوانہ تو وحشت کی بھی حد سے نکلا
کہ بیاباں کو بھی چاہے ہے بیاباں ہونا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دیار یار کا شاید سراغ لگ جاتا
جدا جو جادۂ مقصود سے سفر ہوتا
تو دیکھ تو ادھر کہ جو دیکھا نہ جائے پھر
تو گفتگو کرے تو کبھی گفتگو نہ ہو
اس سے نہ ملیے جس سے ملے دل تمام عمر
سوجھی ہمیں بھی ہجر میں آخر کو دور کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھا
تو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیں
گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کا
ترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کا
فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئے
تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروں
اندازہ آدمی کا کہاں گر نہ ہو شراب
پیمانہ زندگی کا نہیں گر سبو نہ ہو
اشک کے گرتے ہی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا
کون سی حسرت کا یا رب یہ چراغ خانہ تھا
واعظ نے میکدے کو جو دیکھا تو جل گیا
پھیلا گیا چراند شراب طہور کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نالہ کرتا ہوں لوگ سنتے ہیں
آپ سے میرا کچھ کلام نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جو کہتا ہے وہ کرتا ہے برعکس اس کے کام
ہم کو یقیں ہے وعدۂ نا استوار کا
ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سے
مگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کا
پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانے
کہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانے