راجہ مہدی علی خاں کے اشعار
کس کی آنکھوں سے گرا ہے یہ
یہ سمندر ہے بڑا سا آنسو
پہلے ہم کو بہن کہا اب فکر ہمیں سے شادی کی
یہ بھی نہ سوچا بہن سے شادی کر کے کیا کہلائیں گے
اڑا لیتی ہیں سب نقدی تلاشی جیب کی لے کر
ہم اپنی ہی کمائی ان سے ڈر ڈر کے چھپاتے ہیں
جب اپنا دکھ سناؤں قمر کے پدر کو میں
کہتے ہیں دیکھ آگ لگا دوں گا گھر کو میں
کر لیجے رضیہؔ سے محبت ہم پر کیجے نظر کرم
وہ بے چاری پھنس جائے گی ہم اس کو سمجھائیں گے
میں تم پہ ہوں جاں نثار اخترؔ قسم ہے 'منشی فدا علی' کی
بہت دنوں سے میں تم پہ ساحرؔ سے جادو ٹونے کرا رہا ہوں
اگر ہو تم 'ہاجرہ' تو پھر مجھ سے مل کے 'مسرور' کیوں نہیں ہو
تمہارے آگے 'اوپندر ناتھ اشک' بن کے آنسو بہا رہا ہوں
بری بری نظریں چہرے پر ڈال رہے ہیں اف توبہ
ہم اپنے دونوں گالوں کو جا کے ابھی دھو آئیں گے