ریاض لطیف
غزل 22
نظم 17
اشعار 7
زمین پھیل گئی ہے ہماری روح تلک
جہاں کا شور اب اندر سنائی دیتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یہیں پر ختم ہونی چاہیئے تھی ایک دنیا
یہیں سے بات کا آغاز ہونا چاہیئے تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کبھی تو منظروں کے اس طلسم سے ابھر سکوں
کھڑا ہوں دل کی سطح پر خود اپنے انتظار میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کسی نے ہم کو عطا نہیں کی ہماری گردش ہے اپنی گردش
خود اپنی مرضی سے اس جہاں کی رگوں میں گرداب ہم ہوئے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بعد میں رکھے سرابوں کے دیاروں میں قدم
پہلے وہ سانس کی سرحد پہ تو آ کر دیکھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ویڈیو 5
This video is playing from YouTube