Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سیدہ عرشیہ حق

1990 | سڈنی, آسٹریلیا

نئی نسل کی شاعرات میں شامل

نئی نسل کی شاعرات میں شامل

سیدہ عرشیہ حق کے اشعار

3.3K
Favorite

باعتبار

تم بھی آخر ہو مرد کیا جانو

ایک عورت کا درد کیا جانو

تم بھی آخر ہو مرد کیا جانو

ایک عورت کا درد کیا جانو

عورت ہو تم تو تم پہ مناسب ہے چپ رہو

یہ بول خاندان کی عزت پہ حرف ہے

عورت ہو تم تو تم پہ مناسب ہے چپ رہو

یہ بول خاندان کی عزت پہ حرف ہے

خبر کر دے کوئی اس بے خبر کو

مری حالت بگڑتی جا رہی ہے

خبر کر دے کوئی اس بے خبر کو

مری حالت بگڑتی جا رہی ہے

سب یہاں جونؔ کے دوانے ہیں

حقؔ کہو کون تم کو چاہے گا

سب یہاں جونؔ کے دوانے ہیں

حقؔ کہو کون تم کو چاہے گا

یہی دعا ہے وہ میری دعا نہیں سنتا

خدا جو ہوتا اگر کیا خدا نہیں سنتا

یہی دعا ہے وہ میری دعا نہیں سنتا

خدا جو ہوتا اگر کیا خدا نہیں سنتا

حجاب کرنے کی بندش مجھے گوارا نہیں

کہ میرا جسم کوئی مال زر تمہارا نہیں

حجاب کرنے کی بندش مجھے گوارا نہیں

کہ میرا جسم کوئی مال زر تمہارا نہیں

جسم کو پڑھتے رہے وہ روح تک آئے نہیں

جونؔ کو پڑھتے رہے مجروحؔ تک آئے نہیں

جسم کو پڑھتے رہے وہ روح تک آئے نہیں

جونؔ کو پڑھتے رہے مجروحؔ تک آئے نہیں

تمہیں لگتا ہے جو ویسی نہیں ہوں

میں اچھی ہوں مگر اتنی نہیں ہوں

تمہیں لگتا ہے جو ویسی نہیں ہوں

میں اچھی ہوں مگر اتنی نہیں ہوں

تمہارے خط جلا کر کے تمہیں یکسر بھلا دوں گی

تمہارے جرم کی تم کو میں اس درجہ سزا دوں گی

تمہارے خط جلا کر کے تمہیں یکسر بھلا دوں گی

تمہارے جرم کی تم کو میں اس درجہ سزا دوں گی

چمن میں نہ بلبل کا گونجے ترانہ

یہی باغبان چمن چاہتا ہے

چمن میں نہ بلبل کا گونجے ترانہ

یہی باغبان چمن چاہتا ہے

بلا کی حسن ور ہے عرشیہ حقؔ

حسد رکھتی ہیں سب جنت کی حوریں

بلا کی حسن ور ہے عرشیہ حقؔ

حسد رکھتی ہیں سب جنت کی حوریں

تو کیا ہوا جو جنمی تھی پردیس میں کبھی

بیٹی ہے عرشیہؔ بھی تو ہندوستان کی

تو کیا ہوا جو جنمی تھی پردیس میں کبھی

بیٹی ہے عرشیہؔ بھی تو ہندوستان کی

تمہارا روز جو میں صرف کرتی رہتی ہوں

تمہیں گمان نہ ہو تم مری محبت ہو

تمہارا روز جو میں صرف کرتی رہتی ہوں

تمہیں گمان نہ ہو تم مری محبت ہو

عرشیہ حقؔ کے پرستاروں میں ہو

تم بھی کافر ہو گنہ گاروں میں ہو

عرشیہ حقؔ کے پرستاروں میں ہو

تم بھی کافر ہو گنہ گاروں میں ہو

اپنی صورت زرد چھپاتی پھرتی ہوں

سب سے اپنا درد چھپاتی پھرتی ہوں

اپنی صورت زرد چھپاتی پھرتی ہوں

سب سے اپنا درد چھپاتی پھرتی ہوں

میں خود پہ ضبط کھوتی جا رہی ہوں

جدائی کیا ستم آلود شے ہے

میں خود پہ ضبط کھوتی جا رہی ہوں

جدائی کیا ستم آلود شے ہے

Recitation

بولیے