Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shauq Bahraichi's Photo'

شوق بہرائچی

1884 - 1964 | بہرائچ, انڈیا

طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں نمایاں

طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں نمایاں

شوق بہرائچی کے اشعار

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

ہر ملک اس کے آگے جھکتا ہے احتراماً

ہر ملک کا ہے فادر ہندوستاں ہمارا

ابھی تو حضرت واعظ مذمت مے کی کرتے ہیں

اگر مے خانے میں ان کا گزر ہوگا تو کیا ہوگا

بڑے حوصلے تھے پہلے بڑے ولولے تھے پہلے

جو عمل کا وقت آیا ہوئے آپ نو دو گیارا

بھلا شوقؔ دیکھوں کیوں کر رخ پر شکن کا منظر

مرے دانت ہی کہاں ہیں جو میں کھا سکوں چھوارا

ہمارے رہبران قوم و ملت شوقؔ کیا کم ہیں

وطن میں گر نہ کوئی باربر ہوگا تو کیا ہوگا

Recitation

بولیے