Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Yasir Tahsin's Photo'

یاسر تحسین

1996 | دلی, انڈیا

یاسر تحسین کے اشعار

12
Favorite

باعتبار

پہلے تو اک جھوٹے غم میں مٹ جانے کا ناٹک رچ

پھر دنیا کو جا جا کر بتلا تو کتنے دکھ میں ہے

تم جو کہتے ہو چوم لو گے ہمیں

کرنے والے کہا نہیں کرتے

چل دئے ہیں بول کر واپس نہ لوٹیں گے کبھی

چل دئے ہیں اک دفعہ پھر لوٹ آنے کے لیے

دغا سے باز آؤ میر جعفرؔ

ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں

جو تم نہ ہوگی تو دل حویلی سرائے ہوگی

سرائے جس میں حسین چہرے رکا کریں گے

جب کسی صورت نہیں ہے مجھ کو احساس وجود

پھر مرے کس کام کا ہے یہ جہان ہست و بود

اک دن ہر منظر کالا ہو جائے گا

سورج اس کی زلفوں میں کھو جائے گا

آنسو کریں گے ایک بھی ضائع نہ آنکھ سے

دریا کو پاٹ کر یہاں صحرا بنائیں گے

آ ہی جاتا تھا خیال غیر میرے ذہن میں

عین موقع پر تمہاری یاد نے کھٹکا کیا

یہ ابر نو ہمارے کسی کام کا نہیں

ان کو پسند ہی نہیں بارش میں بھیگنا

درد دل زندگی کی خوشی پی گیا

اک سمندر ہماری ندی پی گیا

تری یاد سینہ سے رخصت ہوئی

یہ بڑھیا بڑے دن سے بیمار تھی

تصور کرو وہ تمہیں چاہتے ہیں

تصور کرو یہ تصور نہیں ہے

کیوں دے رہے ہو دستکیں چوکھٹ پہ بارہا

کتنی دفعہ بتاؤں کہ گھر پر نہیں ہوں میں

آمد ہوئی تھی میں نے ہی دھتکار دی غزل

یہ کہہ کے دوسرا کوئی شاعر تلاش کر

خدا کی آنکھ ہیں آنکھیں ہماری

خدا ان سے ہی دنیا دیکھتا ہے

رات ہوئی تو سب دیووں نے مندر میں

اس جوگن کو شیش نوائے رقص کیا

ہائے وہ شوخ صندلی قامت

جس نے مجھ بے نیاز کو مارا

زندگی رائیگاں گئی میری

اس گلی سے دکاں گئی میری

اس نے دن جلدی ڈھلنے کی خواہش کی

دھرتی نے رفتار بڑھا دی گردش کی

برسوں کاٹ لیے یہ کہہ کر

کل کو وصل ہوا جاتا ہے

ستم یہ ہے تری آنکھوں کا پانی

مرے سینہ کی مٹی کاٹتا ہے

ہم دونوں کا عشق مکمل ہونا مشکل لگتا ہے

تو جنس جنات کی پیدا اور میں بیٹا آدم كا

ایسی تنہا راتوں میں ہی آتی ہے

ایک غزل جو شاعر کو کھا جاتی ہے

Recitation

بولیے