Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zulfiqar Aadil's Photo'

ذوالفقار عادل

1972 | کراچی, پاکستان

نئی نسل کے نمائندہ شاعر اور افسانہ نگار۔

نئی نسل کے نمائندہ شاعر اور افسانہ نگار۔

ذوالفقار عادل کے اشعار

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ

موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

روانی میں نظر آتا ہے جو بھی

اسے تسلیم کر لیتے ہیں پانی

یہ کس نے ہات پیشانی پہ رکھا

ہماری نیند پوری ہو گئی ہے

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں

منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم

بیٹھے بیٹھے اسی غبار کے ساتھ

اب تو اڑنا بھی آ گیا ہے مجھے

یوں اٹھے اک دن کہ لوگوں کو ہوا

ابر کا دھوکا ہماری خاک پر

دشت و دریا کی ابتدا سے ہیں

ہم وہی تین دن کے پیاسے ہیں

عادلؔ سجے ہوئے ہیں سبھی خواب خوان پر

اور انتظار خلق خدا کر رہے ہیں ہم

Recitation

بولیے