aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "'bilqiis'"
بلقیس ظفیر الحسن
born.1938
شاعر
بلقیس خان
born.1987
بلقیس بیگم
بلقیس جمال بریلوی
1909 - 1982
مصنف
بلقیس ظفر
بلقیس شاہین
بلقیس خانم
فن کار
غزالہ رفیق
1939 - 1977
بلقیس عابد علی
بلقیس فاطمی
بلقیس ضیا
سیدہ بلقیس فاطمہ
بلقیس کنول
بلقیس ریاض
بلقیس شفیع الدین
مدیر
کیا بتاؤں بچھڑ گیا یاراںایک بلقیس سے سبا میرا
انہونی کچھ ضرور ہوئی دل کے ساتھ آجنادان تھا مگر یہ دوانا کبھی نہ تھا
بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے مریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہے
کہتی ہو خود کوبلقیس بانو
اپنا بھی مدتوں سے ہے رقعہ لگا ہوابلقیس شاعری کو سلیمان چاہیئے
آگہی کلاسیکی شاعری میں کم کم استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آگہی سے وابستہ تصورات جدید دورکے پیدا کردہ ہیں ۔ جدید شاعری نے انسان اوراس کے باطن ، سماج اورکی مختلف شکلوں کے بارے میں جوایک داخلی اورتخلیقی فکرکو راہ دی ہے اس سے ایک نیا منظرنامہ سامنے آیا ہے ۔ انہیں بنیادوں پرجدید شعریات کا اپنا ایک انفراد بھی قائم ہوتا ہے ۔ آگہی کا رشتہ ایک سطح پر تصوف میں حاصل ہونے والی بے خودی سے بھی ملتا ہے ۔ اس انتخاب میں آگہی کے اس سفر کی چند منزلوں کے نشان ہیں ۔
ہوش مندی کے مقابلے میں بے خبری شاعری میں ایک اچھی اور مثبت قدر کے طور پر ابھرتی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ بےخبری انسانی فطرت کی معصومیت کی علامت ہے جو حد سے بڑھی ہوئی چالاکی اور ہوش مندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے بچاتی ہے ۔ ہماری عام زندگی کے تصورات تخلیقی فن پاروں میں کس طرح ٹوٹ پھوٹ سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ اس شعری انتخاب سے ہوگا ۔
बिल्क़ीसبِلْقِیس
عربی
شہر سبا (جدید تاریخ نویسوں کی تحقیق کے مطابق سبا شہر جنوبی عربی ریاست یمن کا ایک شہر ہے) کی ملکہ جو بعد میں ایمان لا کر حضرت سلیمان کی زوجہ بنیں
बिलक़ीस-ए-शा'इरीبِلْقِیسِ شاعِری
Bilqees of poetry-allusion, Name of Queen of Sheba
عابدہ
بلقیس ہاشمی
معاشرتی
ویرانے آباد گھروں کے
کہانیاں/ افسانے
مانگے کی آگ
افسانہ / کہانی
شعلوں کے درمیاں
مجموعہ
تماشا کرے کوئی
ڈراما
آئینہ جمال
مسیح دکن ڈاکٹر ارسطو یارجنگ بہادر
سوانح حیات
ریاض فاطمہ
شاعری
تحقیق سے تدوین کے اصول اور طریقۂ کار
تنقید
صفورہ
ناول
قوس قزح
گیلا ایندھن
خواتین کی تحریریں
Monograph On A Critical And Comparative Study Of Amir Khusrav's Aina-e-Sikanderi
ماریا بلقیس
چشم پرنم
بلقیس صادق علی
کشفی صاحب آپ کے لئے
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئےجیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سےہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں
اپنی جنگ ہی لڑتی ہےلاکھ کہو وہ باغی ہے
بلقیسؔ اپنی بات تو سب سے الگ رہیناگفتنی سنی ہے کہی ناشنیدنی
ہر دل عزیز وہ بھی ہے ہم بھی ہیں خوش مزاجاب کیا بتائیں کیسے ہماری نہیں بنی
جانے کیا کچھ ہے آج ہونے کوجی مرا چاہتا ہے رونے کو
ہم تو بیگانے سے خود کو بھی ملے ہیں بلقیسؔکس توقع پہ کسی شخص کو اپنا سمجھیں
اپنی تو کوئی بات بنائے نہیں بنیکچھ ہم نہ کہہ سکے تو کچھ اس نے نہیں سنی
چہرۂ بلقیس پر آنکھ ٹھہرتی نہیںصبح یمن کا سماں خوب ہے اپنی جگہ
در بدر کی خاک تھی تقدیر میںہم لیے کاندھوں پہ گھر چلتے رہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books