aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daar-o-madaar-e-ishq"
دار عرفات، لکھنؤ
ناشر
دار عرنوس، نئی دہلی
دار عمر للطباعت و النشر، نئی دہلی
انجمن معروفیہ برہانیہ بارگاہ عشق،کلکتہ
ڈاکٹر اے عبد اللہ
مدیر
ڈاکٹر۔ اے۔ آر بیدار
ڈاکٹر اے ایچ یوؤنگ
مصنف
دائرہ الکٹرک پریس، حیدرآباد
انجمن درس ادب، چاند پور
ادارہ درس اسلام، دیوبند
ادارۂ درس قرآن، دیوبند
حلقہ درس قرآن، علی گڑھ
مدح صحابہ کمیٹی، لکھنؤ
ادارہ بزم عاشقی، کانپور
محمد ابن اسحق شوکت بخاری
دار و مدار عشق وفا پر ہے ہم نشیںوہ کیا کرے کہ جس سے وفا بھی نہ ہو سکے
جس روشنی پہ عکس کا دار و مدار ہےاس روشنی کو کون دکھائے گا آئنہ
ہے دار و مدار رنج و سکوں اس دل کا ان کی مرضی پرجس وقت ذرا ہنس ہنس کے ملے ہم حال سنانا بھول گئے
وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جی
مرا دار و مدار زندگی بھیٹکا ہے بس تمہاری ایک ہاں پر
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
نذر مادر جامعہ
عباس حسین نقوی
نظم
ترجمہ ضوابط انتھرو پامٹری سرکارِ عظمت مدار مع تشریح
میر ولایت حسین
ترجمہ
درس مادر
خواجہ حسن نظامی
دار عشق
کوثر نقوی
مجموعہ
001
مولوی سید ممتاز علی
Jan 1905مشیر مادر
سید مزمل احمد سیاہ
گلستان مدار
سید عرفان علی
تذکرہ
آغوش مادر
آر۔ بخت
جنگیں
مادر وطن
معراج الحسن سہسوانی
مثنوی مادر ہند
شاد عظیم آبادی
مادر ہم درد
تاریخ مدار عالم
محضر علی
تاریخ
مدار فکر
مرتضیٰ اشعر
نعت
مثنوی
دروبام تخیل
فرخ ہمایوں
شاعری
جس پہ دار و مدار کشتی تھاڈور وہ بادبان سے ٹوٹی
جن پہ دار و مدار گلشن تھاوہ سیاست شعار ہیں اب تو
دار و مدار زندگی جس پر تھا وہ بھی توجیسا سمجھتے تھے اسے ویسا نہیں رہا
یہ شان دیکھو قلندروں کی ہے جس پہ دار و مدار ہستیوہ آشیاں پھونک کر ہر اک شاخ پر نشیمن بنا دیا ہے
کر دیا مبتلائے عشق بتاںدیکھیں اب مرضئ خدا کیا ہے
ہے در و بست معانی ان سےملکہ لفظوں کی پہچان میں رکھ
اپنے منصوروں کو اس دور نے پوچھا بھی نہیںپڑ گیا رخنہ صف دار و رسن میں ایسا
فضاؔ تم الجھے رہے فکر و فلسفے میں یہاںبہ نام عشق وہاں قرعۂ ہنر نکلا
بہت سے عشق کی راہوں میں پل صراط آئےتمہارا نام لیا اور گزر گئے ہم بھی
کیا سنے کوئی داستان وفافرق اب عشق اور ہوس میں نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books