aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gardish-e-chashm-e-yaar"
چشمہ فکرو ادب،شعبہ اردو،بنگلور یونیورسٹی
ناشر
طبع چشمۂ فیض، لکھنؤ
چشمۂ نور پریس، امرتسر
مطبع چشمۂ فیض، فرخ آباد
مطبع چشمۂ حیات، فیض آباد
مطبع چشمۂ فیض، دہلی
مطبع چشمۂ کوثر، سہارنپور
مطبع چشمۂ حلم، پٹنہ
مکتبۂ شہر یار، کراچی
گردش چشم یار نے مارادور لیل و نہار نے مارا
ہے میرے سامنے تصویر چشم یار ہنوزمیں پی رہا ہوں مئے حسن بار بار ہنوز
تصویر چشم یار کا خواہاں ہے باغباںایجاد ہوگی نرگس بیمار کی جگہ
اے چشم یار موت کا پہلو بچا کے توایسی نگاہ ڈال کہ میں نیم جاں رہوں
مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیاکہ نشہ نے جس کے غم جہاں مرے دل سے صاف بھلا دیا
نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے۔ نئے سال کی آمد سے وابستہ اور بھی کئی فکری اور جذباتی رویے ہیں ، ہمارا یہ انتخاب ان سب پر مشتمل ہے ۔
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
نئے سال پر 20 منتخب شعر
دیوان چشم آہو
یوسف الدین یوسف
غزل
چراغ چشم تر
ظفر گورکھپوری
مجموعہ
خیر بہ چشم اہل خیر
مقبول فاروقی
تنقید
چشم سر شام
حسن عزیز
چشم نقش قدم
ترنم ریاض
مقالات/مضامین
گردش رنگ چمن
قرۃالعین حیدر
ناول
نقوش گردش ایام
مولانا محمد حنیف ملی
چشم نیم باز
عرش صہبائی
امراض چشم
زبان بستہ و چشم کشادہ
اطہر رضوی
گردش ایام
رائیڈر ہیگرڈ
چشم دید
حیدر بیابانی
طنز و مزاح
چشم خوں بستہ
ثریا رحمٰن
ذکر یار
غلام محمد عمر خاں
نور چشم
مہاراج سرکشن پرشاد شاد
گردش چشم مست سے دل کو لبھا گیا کوئیعقل پہ مجھ کو ناز تھا وہ بھی مٹا گیا کوئی
خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پرزاغ کو بہر تصدق رکھ سر بیمار پر
اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاںہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے
چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کوگھومنے سے جب زیاں ہے مردم بیمار کو
گردش چشم یار بے جا نہیںدل کے لینے کی ہے اسے تدبیر
گردش چشم جدا گردش پیمانہ جدامستیٔ بادہ جدا عالم مستانہ جدا
گردش چشم ہے پیمانے میںتم گئے ہو کبھی میخانے میں
ہے ان دنوں میں گردش چشم بتاں کا دورتیرا زمانہ گردش دوراں نکل گیا
مہربانی ہے یہ چشم یار کیموت برحق ہے دل بیمار کی
مرا احوال چشم یار سوں پوچھحقیقت درد کی بیمار سوں پوچھ
چشم میگون یار کے صدقےنگہ سحر کار کے صدقے
اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کونجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کون
ممکن ہے اشک بن کے رہوں چشم یار میںممکن ہے بھول جائے غم روزگار میں
دل کو چشم یار نے جب جام مے اپنا دیاان سے خوش ہو کر لیا اور کہہ کے بسم اللہ پیا
نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیاکہ میں نے ہوش کے جامے کو تار تار کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books