aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "paakii"
اے پی جے عبد الکلام
1931 - 2015
مصنف
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
محمد اسماعیل پانی پتی
1893 - 1972
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
1730/31 - 1810
مادھوری پئی
چمو پتی
جی۔ کے۔ پئی
مدیر
Sophie Pakin
پری سیما خاتون
شیر بہادر خان پنی
محمد عبدالحمید پانی پتی
ڈاکٹر پری بانو
محمد یوسف احمد پائی
شعبۂ ادب پالی اسٹڈی سرکل، حیدرآباد
ناشر
چغتائی جنرل سٹور اینڈ بک ڈپو، کہروڑ پکا
دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسواس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو
اک فصل پکی تو بھرپایاجب تک تو یہی کچھ کرنا ہے
اے آسمان تیری عنایت بجا مگرفصلیں پکی ہوئی ہوں تو بارش فضول ہے
آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں
رحمت ہوگی طالب عصیاںرشک کرے گی پاکئ دامن
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
पक्कीپکی
پوری، کچوری، مٹھائی وغیرہ کی دعوت
सकीسکی
could
पाकीپَاکِی
فارسی
پاک سے اسم کیفیت
पड़ीپَڑی
ہندی
۲. فکر ، چنتا.
پکی حویلی
نامعلوم مصنف
پاک و ہند کی جڑی بوٹیاں
صوفی لچھمن پرشاد
آیوروید
ہند و پاک میں اردو ناول
انور پاشا
ناول تنقید
پری خانہ
واجد علی شاہ اختر
خودنوشت
ہند و پاک کی جڑی بوٹیاں
حکیم محمد عبداللہ
بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ
اشتیاق حسین قریشی
دیگر
پاک دسترخوان
محترمہ حفیظ عنایت اللہ
خواتین کی تحریریں
آگ اور پانی
شمیم احمد صدیقی
اشعار
مجربات حکمائے ہند و پاک
حکیم محمد اسمعیل
ٹھنڈا میٹھا پانی
خدیجہ مستور
کہانیاں/ افسانے
تاریخ ناصری
سید حامد علی
تاریخ
کالا پانی
وسیم احمد سعید
سوانح حیات
منشی محمد عبداللہ
1857 پاک و ہند کی پہلی جنگ آزادی
غلام رسول مہر
اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیااک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا
اینٹ اور پتھر مٹی گارے کے مضبوط مکانوں میںپکی دیواروں کے پیچھے ہر گھر کچا لگتا ہے
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایتدامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
جامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کا
علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خردفقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ
اگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس کاصفائے پاکی طینت سے ہے گہر کا وضو
ہے پکی عمروں کی اک بے زبان سی لڑکیاسی کا رشتہ ہوں اور وہ بھی آخری ہوں میں
ایک فقیر چلا جاتا ہے پکی سڑک پر گاؤں کیآگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی
گاؤں کی پگڈنڈیاں پکی سڑک سے جا ملیںتنگ گلیوں میں بدل کر رہ گئے میدان بھی
ارادوں کی پکی ہوا کرتی تھینہ زمانہ کا ڈر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books