aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sohbat-e-piir-e-ruum"
ادارہ حلقۂ فکرودانش، کراچی
ناشر
پنڈت جی جی رام بہادر رضا
شاعر
بزم روح ادب، ٹانڈہ
انجمن روح ادب، الہ آباد
بزم رومی و اقبال، سیالکوٹ
میر وارث علی ابن میر ہدایت علی پیرزادہ
مصنف
صولت پبلک لائبریری، رامپور (یو۔ پی۔)
تیج رام ایم۔ اے۔
روح عصر، کراچی
روح ادب پبلی کیشنز، کلکتہ
بابو منسا رام تاجر کتب، لکھنو
جشن مالک رام کمیٹی، دہلی
مکتبہ تحفظ ملت، رام نگر، بنارس
لالہ ماگھی رام سنت رام تاجران کتب، امرتسر
تیرتھ رام ہربنس لال تاجران کتب، لاہور
صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاشلاکھ حکیم سربجیب ایک کلیم سر بکف
خاکسران در پیر مغاں ہیں ہم لوگیعنی منجملۂ صاحب نظراں ہیں ہم لوگ
اے پير حرم! رسم و رہ خانقہي چھوڑ مقصود سمجھ ميري نوائے سحري کا
فروغ بادہ سے روشن ہوئی تقدیر مے خانہکہ ہے ہر بادہ کش روشن چراغ پیر مے خانہ
کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آج
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
مقبول اردو شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ پریم روگ اور رام تیری گنگا میلی کے گیتوں کے لئے مشہور
مشہور ہوجانے کی خواہش ہر کسی کی ہوتی ہے لیکن اس خواہش کو غلط طریقوں سے پورا کرنے کی کوشش بہت سی انسانی قدروں کی پائمالی کا باعث بنتی ہے ۔ یہ شعری انتخاب شہرت کی اچھی بری صورتوں کو سامنے لاتا ہے ۔
پیر رومی و مرید ہندی
محمد اکرام چغتائی
صحبت مرشد کامل
جولین پی، جانسن
خطوط
شجرہ معرفت
مولانا جلال الدین رومی
مثنوی
قصۂ شاہ روم
بوستان معرفت شرح مثنوی مولوی روم
شاعری
پیر کارواں
ایم یاسین قدوسی
صحبتے با اہل دل
ابوالحسن علی ندوی
صحبت گل
اشفاق حسین
سوانح حیات
مثنوی مولانا روم
شاہ مستان
قصہ شاہ روم
قصہ / داستان
کایستھ کلپد روم
منشی برج بہاری لعل
ادارہ جاتی
واقعات روم
عالمی تاریخ
سدا نہ صحبت یاراں
سرور مجاز
ارشاد پیر
شاہ قیام
بادہ و جام و پیر مے خانہمیرا دل ہے انہیں کا دیوانہ
قدر مجھ رند کی تجھ کو نہیں اے پیر مغاںتوبہ کر لوں تو کبھی مے کدہ آباد نہ ہو
سجدہ پیر مغاں حاصل عرفاں نکلاجس کو ہم کفر سمجھتے تھے وہ ایماں نکلا
ایک لغزش میں در پیر مغاں تک پہنچےہم بھٹکتے تھے کہاں اور کہاں تک پہنچے
شیخ صاحب جو در پیر مغاں سے نکلےپھر اثر ان کی دعاؤں میں کہاں سے نکلے
ہم جو مسجد سے در پیر مغاں تک پہنچےبڑھ کے یہ بات خدا جانے کہاں تک پہنچے
رندوں میں یوں ہی بخشش پیر مغاں رہےہو لاکھ قحط پھر بھی یہ دریا رواں رہے
نہ خم و سبو ہوئے چور ابھی نہ حجاب پیر مغاں اٹھاابھی مست بادہ پرست ہیں ابھی لطف بادہ کہاں اٹھا
ٹھہر اے گردش ایام ہم بھی ساتھ چلتے ہیںاٹھا لینے دے فیض صحبت پیر مغاں پہلے
یاں بادۂ احمر کے چھلکتے ہیں جو ساغراے پیر مغاں دیکھ کہ ہے ساری دکاں سرخ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books