aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaada-e-aish-e-davaam"
عصر جدید پریس، کلکتہ
ناشر
ورلڈ وژڈم، یو۔ ایس۔ اے
عصر جدید پریس، میرٹھ
ادارہ عصر نو، کراچی
انجمن معروفیہ برہانیہ بارگاہ عشق،کلکتہ
ادارہ احیا علم و دعوت، لکھنو
ادارہ رہبر عالم کا پیغام دعوت، دہلی
شعبۂ دعوت و ارشاد ندوۃ العلما، لکھنؤ
ادارۂ دعوت و تبلیغ، رامپور
شعبۂ دعوت و تبلیغ مدرسہ اسلامیہ، مظفرپور
مکتبۂ شرف بیت الشرف، بہار شریف
اشک بی اے
مصنف
اے۔ ایس۔ اشا
مدیر
اے۔ ایچ ساحر
مترجم
ناظر دعوت و تبلیغ، صدر انجمن احمدیہ، پنجاب
میسر ہو تو قدرے لطف بھی نعمت ہے یاں یاروکسی کا وعدۂ عیش دوام اچھا نہیں لگتا
متاع حسن عیش جاوداں معلوم ہوتی ہےتری رونق بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے
اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیاسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیا
ناکام نشاط عیش و خوشی ہر وقت کے رنج و غم نے کیاجو تم نے کہا وہ دل نے کیا جو دل نے کہا وہ ہم نے کیا
کوئی ہے محو عیش و طلب گار زندگیکوئی ہے شکوہ سنج و گراں بار زندگی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
نقوش دوام
ساجد کھجناوری قاسمی
حیات دوام
مختار احمد عاصی
علیم اللہ حالی
گوہر راز دوام
صادقہ ذکی
نقش دوام
طیب عثمانی ندوی
خطوط
کیف دوام
پریم لال شفا دہلوی
خطبات
بزم عیش
منشی امانت علی خاں عرف امن
انجام عیش
قاری سرفراز حسین
اقبال کا تصور بقائے دوام
نعیم احمد
اقبالیات تنقید
رباعیات عیش فاروقی
سید الطاف علی بریلوی
متین قریشی
بقاء دوام
ایم۔ اسلم
دیگر
عیش و طرب
صابر رامپوری
شاعری
عبد الحمید عدم
رقص دوام
صغیر احمد صوفی
صرف زندوں ہی کو فکر عیش و آسائش نہیںاب تو اس دنیا میں مردوں کی بھی گنجائش نہیں
سر محفل مآل عیش محفل یاد رکھتا ہےوہ انساں ہے جو آسانی میں مشکل یاد رکھتا ہے
ہجوم عیش و-طرب میں بھی ہے بشر تنہانفس نفس ہے مہاجر نظر نظر تنہا
نئی بزم عیش و نشاط میں یہ مرض سنا ہے کہ عام ہےکسی لومڑی کو ملیریا کسی مینڈکی کو زکام ہے
ہلال عید بنا ہے کلید عیش و نشاطجہاں میں بچھ گئی پھر سے مسرتوں کی بساط
خوگر عیش و مسرت دل خود کام نہیںہے یہ آرام کی صورت مگر آرام نہیں
نہ شوق لذت دنیا نہ ذوق عیش دوامہمارے دل پہ تری چشم کا فسوں ہے بہت
عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کراک ساقیٔ گلعذار کو مہماں کر
شاید ہی راس آئے مجھے عیش مرگ بھیراہیؔ غم حیات کا مارا ہوا ہوں میں
اے عیشؔ ہے فرسودہ اب قیس کا افسانہالفت تو کسی کی بھی جاگیر نہیں ہوتی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books