aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHauf"
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے
سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنادبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سےماہ شب تاب کے نکلتے ہی
اس اژدھے کی آنکھ پوچھتی رہیکسی کو خوف آ رہا ہے یا نہیں
تو مرا حوصلہ تو دیکھ داد تو دے کہ اب مجھےشوق کمال بھی نہیں خوف زوال بھی نہیں
جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیںان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے
حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیںزلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں
ہجرتوں کا خوف تھا یا پر کشش کہنہ مقامکیا تھا جس کو ہم نے خود دیوار جادہ کر لیا
قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائیچلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو
میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
میں چاہتا ہوں کہ میں زخم زخم ہو جاؤںاور اس طرح کہ کبھی خوف اندمال نہ ہو
ایک خوف سا رہتا ہے مرے دل میں ہمیشہکس گھر سے تری یاد نہ جانے نکل آئے
پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کیایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں
وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پرمیں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو
ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میںیہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکاجسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگچاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتاکہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیاوہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books