aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saraab"
ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسےہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا
خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میںیہ مرا خون ہے شراب نہیں
شراب دل کی طلب تھی شرع کے پہرے میںہم اتنی تنگی میں اس کو شراب کیا دیتے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیںتھا سراب اپنا سرمایۂ جستجو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جامساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھےکبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے
عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کےہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کے
بھرم سراب تمنا کا کیا کھلا مجھ پراب ایک گام بھی مجھ سے چلا نہیں جاتا
اب تو سراب ہی سے بجھانے لگے ہیں پیاسلینے لگے ہیں کام یقیں کا گماں سے ہم
کارواں ہے یا سراب زندگی ہے کیا ہے یہایک منزل کا نشاں اک اور ہی جادہ لگا
سر صحرا حباب بیچے ہیںلب دریا سراب بیچے ہیں
یہ دشت بے طرف ہے گمانوں کا موج خیزاس میں سراب کیا کہ سمندر بھی آئیں گے
مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گےمری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
اسی کا دھیان ہے اور پیاس بڑھتی جاتی ہےوہ اک سراب کہ صحرا بنا رہا ہے مجھے
سراب ہوں میں تری پیاس کیا بجھاؤں گیاس اشتیاق سے تشنہ زباں قریب نہ لا
تر ہے دشت اس کے عکس منظر سےاور خود وہ سراب ہے سو ہے
یہ طے کیا ہے کہ دریا موج مستی کوسراب دشت تپیدا میں گاڑ ڈالوں گا
تشنگی نے سراب ہی لکھاخواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا
مجھے کہیں کوئی چشمہ نظر نہیں آیاہزار دشت پڑے تھے سراب پہنے ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books