aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shimar"
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخمرا سرور ہے گل خندۂ شرر کا سا
یہ کوفے کی گلیاں ہیں کہ یہ میری رگیں بھیہر سمت سے چبھتی ہے انی مجھ کو شمر کی
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہواہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافلگرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
اپنے شہر کے سب لوگوں سےمیری خاطر کیوں الجھے ہو
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہطائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفسمدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتییہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا
اپنی تسبیح رہنے دے زاہددانہ دانہ شمار کون کرے
شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہیاس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرےبت شکن بت گری کو بھول گیا
جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکنایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیںشمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیاشب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھیکہ مقدور تک تو دوا کر چلے
جنوں کا حجم زیادہ تمہارا ظرف ہے کمذرا سا گملا ہے اس میں شجر لگے گا نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books