aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ammii"
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
اور امی نے سمجھائی نہیںمیں کیسے میٹھی بات کروںجب میں نے مٹھائی کھائی نہیںآپی بھی پکاتی ہیں حلوہپھر وہ بھی کیوں حلوائی نہیں
یہ بچہ کس کا بچہ ہےیہ بچہ کیسا بچہ ہےجو ریت پہ تنہا بیٹھا ہےنا اس کے پیٹ میں روٹی ہےنا اس کے تن پر کپڑا ہےنا اس کے سر پر ٹوپی ہےنا اس کے پیر میں جوتا ہےنا اس کے پاس کھلونوں میںکوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہےنا اس کا جی بہلانے کوکوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہےنا اس کی جیب میں دھیلا ہےنا اس کے ہاتھ میں پیسا ہےنا اس کے امی ابو ہیںنا اس کی آپا خالا ہے
کبھی ہم خوبصورت تھےکتابوں میں بسیخوشبو کی صورتسانس ساکن تھیبہت سے ان کہے لفظوں سےتصویریں بناتے تھےپرندوں کے پروں پر نظم لکھ کردور کی جھیلوں میں بسنے والےلوگوں کو سناتے تھےجو ہم سے دور تھےلیکن ہمارے پاس رہتے تھےنئے دن کی مسافتجب کرن کے ساتھآنگن میں اترتی تھیتو ہم کہتے تھےامی تتلیوں کے پربہت ہی خوبصورت ہیںہمیں ماتھے پہ بوسا دوکہ ہم کو تتلیوں کےجگنوؤں کے دیس جانا ہےہمیں رنگوں کے جگنوروشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیںنئے دن کی مسافترنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھکھڑکی سے بلاتی ہےہمیں ماتھے پہ بوسا دوہمیں ماتھے پہ بوسا دو
(۲)مت رو بچےرو رو کے ابھیتیری امی کی آنکھ لگی ہےمت رو بچےکچھ ہی پہلےتیرے ابا نےاپنے غم سے رخصت لی ہےمت رو بچےتیرا بھائیاپنے خواب کی تتلی پیچھےدور کہیں پردیس گیا ہےمت رو بچےتیری باجی کاڈولا پرائے دیس گیا ہےمت رو بچےتیرے آنگن میںمردہ سورج نہلا کے گئے ہیںچندرما دفنا کے گئے ہیںمت رو بچےامی، ابا، باجی، بھائیچاند اور سورجتو گر روئے گا تو یہ سباور بھی تجھ کو رلوائیں گےتو مسکائے گا تو شایدسارے اک دن بھیس بدل کرتجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے
اک لڑکی تھی چھوٹی سیدبلی سی اور موٹی سیننھی سی اور منی سیبالکل ہی تھن متھنی سیاس کے بال تھے کالے سےسیدھے گھنگریالے سےمنہ پر اس کے لالی سیچٹی سی مٹیالی سیاس کی ناک پکوڑی سینوکیلی سی چوڑی سیآنکھیں کالی نیلی سیسرخ سفید اور پیلی سیکپڑے اس کے تھیلے سےاجلے سے اور میلے سےیہ لڑکی تھی بھولی سیبی بی سی اور گولی سیہر دم کھیل تھا کام اس کاشاداں بی بی نام تھا اس کاہنستی تھی اور روتی تھیجاگتی تھی اور سوتی تھیہر دم اس کی اماں جانکھینچا کرتی اس کے کانکہتی تھیں مکتب کو جاکھیلوں میں مت وقت گنواامی سب کچھ کہتی تھیشاداں کھیلتی رہتی تھیاک دن شاداں کھیل میں تھیآئے اس کے ابا جیوہ لاہور سے آئے تھےچیزیں ویزیں لائے تھےباکس میں تھیں یہ چیزیں سبخیر تماشا دیکھو ابابا نے آتے ہی کہاشاداں آ کچھ پڑھ کے سناگم تھی اک مدت سے کتابکیا دیتی اس وقت جوابدو بہنیں تھیں شاداں کیچھوٹی ننھی منی سینام تھا منجھلی کا سیماںگڑیا سی ننھی ناداںوہ بولی اے ابا جیاب تو پڑھتی ہوں میں بھیبلی ہے سی اے ٹی کیٹچوہا ہے آر اے ٹی ریٹمنہ ماؤتھ ہے ناک ہے نوزاور گلاب کا پھول ہے روزمیں نے ابا جی دیکھاخوب سبق ہے یاد کیاشاداں نے اس وقت کہامیں نے ہی تو سکھایا تھالیکن ابا نے چپ چاپکھولا باکس کو اٹھ کر آپاس میں جو چیزیں نکلیںساری سیماں کو دے دیںاک چینی کی گڑیا تھیاک جادو کی پڑیا تھیاک ننھی سی تھی موٹرآپ ہی چلتی تھی فر فرگیندوں کا اک جوڑا تھااک لکڑی کا گھوڑا تھااک سیٹی تھی اک باجاایک تھا مٹی کا راجاشاداں کو کچھ بھی نہ ملایعنی کھیل کی پائی سزااب وہ غور سے پڑھتی ہےپورے طور سے پڑھتی ہے
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
رو رو کے مانگنا وہ امی سے روز پیسےجا جا کے ہوٹلوں میں برفی ملائی کھانا
اللہ جیہم سو نہیں پاتےامی کو کب بھیجو گےنانی کہتی ہیںتم ہم سے روٹھے ہولیکن اب ہمروزانہ مکتب جائیں گےتم کو تختی پر لکھیں گےاسلم مسٹر گندے ہیںان کے ساتھ نہیں کھلیں گےاللہ جیاب مان بھی جاؤچاہو توامی کے بدلےہم سے ساری چیزیں لے لوگیند بھی لے لواور گولی بھیلٹو اور غلیل بھی لے لولیکن ہم کو امی دے دوہم کو ہماری امی دے دو
ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیاناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیاڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتےسارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیادادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہمنانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیابندر کو سہرا باندھ کے ہم دولہا نہ بنائیں گے امیاب گھونگھٹ کاڑھ بندریا کو ڈولی میں بٹھانا چھوڑ دیاندیا کے گہرے پانی میں کھائے نہ کئی دن سے غوطےگھر ہی میں پڑے اب سڑتے ہیں ندیا پہ نہانا چھوڑ دیااب صبر کے میٹھے پھل آہیں بھر بھر کر کھاتے ہیںمالن کو بنا بیٹھے خالہ مالی کو رلانا چھوڑ دیاگھر میں بیٹھے سادھو بن کر اب علم کی مالا جپتے ہیںخرگوشوں کے پیچھے جنگل میں کتوں کو بھگانا چھوڑ دیاپنجروں میں بند جو رہتی تھیں وہ پھر سے اڑا دیں سب چڑیاںمرغوں میں صلح کراتے ہیں مرغوں کو لڑانا چھوڑ دیااب ہم نے کبھی کھانا کھا کر کپڑوں سے ہاتھ نہیں پونچھےدیکھو کئی دن سے دھوبی نے رونا چلانا چھوڑ دیاہر ایک بغاوت چھوڑی ہے ہر ایک شرارت رخصت ہےاب گھر میں فرشتے آتے ہیں شیطان نے آنا چھوڑ دیاہم سے پھر بھی ناراض ہو کیوں کیا تم سوتیلی امی ہواپنے ان پیارے بچوں کو اب منہ بھی لگانا چھوڑ دیاجن آنکھوں میں روز شرارت تھی ان آنکھوں میں آنسو اب دیکھوان آپ کی پیاری آنکھوں کو اب ہم نے رلانا چھوڑ دیاہے گھر کی فضا سہمی سہمی غمگین ہیں بچوں کے چہرےکب ہنس کے کہوں گی اے بچو کیوں ہم کو ستانا چھوڑ دیا
آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہرہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانےبے محنت و مشقت حاصل تھا آب و دانہبچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانادل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہمہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگاناپھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھاناآواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتیاس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکراچارہ اسے کھلانا میدان میں گھماناوہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کربچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہدادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھاچہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹاناچہرے پہ آپ کے ہیں جو بے شمار شکنیںآیا مری سمجھ میں ان سے نجات پاناکپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سےآسان سا عمل ہے یہ استری چلانااک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریںعمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانااک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میںاب چھوڑیئے گا امی یہ روٹیاں پکانااک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیںاس پیڑ کو کہیں گے روٹی کا کارخانہشاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں گیتوڑیں گے روٹیاں ہم کھائیں گے گھر میں کھاناکیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پرآج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہوہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیںبچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا
حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیںجو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیںتھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیںابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیںکچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیںتجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیںاسکول ہی ایسا ہے کہ جہاں کچھ چین نہیں آرام نہیںاس وقت اگرچہ سر میں کسی کے درد برائے نام نہیںہر وقت مگر پڑھتے رہنا کم عمروں کا تو کام نہیںسب اپنی اپنی کرسی پر سدھ بدھ بسرائے بیٹھے ہیںاک بار کہیں سے مل جاتا ہم سب کو چراغ چین اگربس سال میں اک دن پڑھ لیتے درجے کی کتابیں فر فر فرپھر خواب ہی دلچسپی رہتی پھر خوب مزہ آتا دن بھراسکول میں جانا کیوں ہوتا ہر روز یہ رہتا کیوں چکرامید نہیں لیکن پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیںلیکن یہ زمانہ علم کا ہے یہ وقت ہے آگے بڑھنے کامل جل کے کریں گے گر محنت ہو جائے گا ہر سپنا پوراہمت سے ہوئی ہیں تعمیریں جرأت سے ہوا ہے کام نیاجب عزم و عمل اچھا ہوگا اچھا ہی نتیجہ بھی ہوگاہم لوگ یہاں حلوہ کھا کر اک شمع جلائے بیٹھے ہیں
پہلے امی گئیں اب ابا گئےہائے اب میں یتیم ہو ہی گیا
ڈانٹ امی سے کھلوا دوں گیابا سے میں پٹوا دوں گی
امتحاں کا بھوت ہے یا ہے قیامت کا سماںامی اور ابا سے چھپ کر رو رہی ہیں لڑکیاںکہتے ہیں لڑکے کیا کرتے تھے جو اٹکھیلیاں''یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں''اب ہرن کی طرح سے بھولے ہوئے ہیں چوکڑیاس قدر رٹنا پڑا ہے جل اٹھی ہے کھوپڑی
امی کی یہ جائے نماز مجھے دے دومجھے پتہ ہےاس میں کتنی روشن صبحیں جذب ہوئی ہیںکتنی سناٹی دوپہریںاس کی سیون میں زندہ ہیںمغرب کے جھٹ پٹ انوار کی شاہد ہے یہآخر شب کا گریہاس کے تانے بانے کا حصہ ہےمجھے پتہ ہےامی کے پاکیزہ سجدوں کی سرگوشیاس کے کانوں میں زندہ ہےاس کے سچے سچے سجدےدیکھو کیسے چمک رہے ہیںان کے لمس کی خوشبوکیسی پھوٹ رہی ہےامی کی یہ جائے نماز بڑی دولت ہےامی کی یہ جائے نماز مجھے دے دو
سویرے سویرے جگاتی ہیں امیمرے ہاتھ منہ پھر دھلاتی ہیں امی
کیا زندگی ہماریسب کچھ ہے اپنے بس میںآزاد ہیں فضائیںدنیا ہے دسترس میںکیا کیا ہمیں ملا ہےکچھ وقت کچھ برس میںلیکن جو مڑ کے دیکھیںتھی اک عجب کہانیدشوار کیسا جینامشکل تھی زندگانیاک آفت مسلسلآلام ناگہانیروزانہ صبح اٹھناآسان تھا نہ اتناہر روز ڈانٹ کھاناہر روز کا سسکناہر بات کے تماشےہر بات پر جھگڑناابا وہیں کھڑے ہیںاخبار پڑھ رہے ہیںکیا کام ہم کو دے دیںہر وقت سوچتے ہیںاولاد کو تو اپنینوکر سمجھ رہے ہیںامی کے سامنے توبالکل نہ منہ کو کھولیںہم بد تمیز ٹھہرےگو اچھی بات بولیںچپ چاپ ہی رہیں بسکتنا بھی خوار ہو لیںپانی برس رہا ہےپر دل ترس رہا ہےوہ سائیکل کھڑی ہےمانجھا وہیں رکھا ہےکنچے یہاں پڑے ہیںبلا وہاں کھڑا ہےلیکن نہیں ہمیں کیالادے کمر پہ بستہاسکول جا رہے ہیںتاریخ کا ہے پرچہاچھا نہیں ہوا توبس بند جیب خرچہاردو کا کام پوراکل رات کر لیا تھالیکن ہمیں ریاضیبالکل سمجھ نہ آیااللہ کے ہیں بندےہم سے ہے واسطہ کیاامی نے صرف ڈانٹابالوں میں تیل ڈالابھیا نے صرف جھڑکاباجی نے خوب ٹالاسب کے لئے ہے جی میںنفرت کا ایک جالابھیا کی سائیکل کیکس نے ہوا نکالیہم کو بھلا خبر کیاہر شخص ہے سوالیاس نے ہماری چڑیااس دن جو توڑ ڈالیسچ ہے بہت ستم تھاگویا تھے اک کھلوناجیسے ہو سب برابرگھر میں نہ ہونا ہونادیکھا نہیں کسی نےچھپ چھپ ہمارا رونااب ہو گیا ہے اپنا ہر چیز پر اجارہسب اپنی ذمہ داریسب فیصلے ہمارےہر چیز اختیاریلیکن وہ بچپنے کی ہے یاد پیاری پیاریکیا زندگی ہماریکیا زندگی ہماری
بڑے ہی شوق سے مجھ کو پڑھاتی ہیں لکھاتی ہیںبڑے ہی پیار سے جو پوچھتا ہوں وہ بتاتی ہیںنہ جھنجھلاتی ہیں وہ مجھ پر نہ غصہ ہی دکھاتی ہیںجو مجھ کو ڈانٹتی بھی ہیں تو فوراً مسکراتی ہیںخدا رکھے کہ مجھ پر مہرباں ہیں کس قدر امیبری دیکھی جو کوئی بات مجھ میں پیار سے ٹوکاکبھی کھیلا جو کوئی کھیل گندہ مجھ کو سمجھایاکبھی چغلی کسی کی میں نے کھائی تو برا مانادرست اس کو کرایا لفظ اگر کوئی غلط بولاغرض کرتی ہیں میری تربیت آٹھوں پہر امیصحابہ کے بزرگوں کے مجھے قصے سناتی ہیںحدیثیں بھی سناتی ان کا مطلب بھی بتاتی ہیںسلیقے سے صفائی سے مجھے رہنا سکھاتی ہیںمرے آرام کی خاطر وہ تکلیفیں اٹھاتی ہیںنہیں کوئی بھی اتنا مہرباں ہیں جس قدر امیبڑا ہے ان کا رتبہ اور اونچا ہے مقام ان کاہمیشہ دل سے کرتا ہوں ادب اور احترام ان کانہ میں ان سے جھگڑتا ہوں نہ میں لیتا ہوں نام ان کاخوشی کے ساتھ کر دیتا ہوں میں ہر ایک کام ان کاجبھی تو مجھ کو کہتی ہیں مرا نور نظر امی
نہ امی کے ساتھ اور نہ بھیا کے ساتھوہ ہر وقت رہتی ثریا کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books